خطبہ 1
تلخیص خطبہ ۱:
اس خطبے کو مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
ستائش خدا،آفرینش جہان،تخلیق فرشتہ،انتخاب انبیا،بعثت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،عظمت قرآن اور مختلف احکام شرعیہ پر مشتمل ہے۔
ستائش خدا:
اگر یہ کہا جائے کہ توحید اور خدا شناسی کی مباحث کا شاہکار نہج البلاغہ ہے اور انسانی فکر اس کے مطالب کو سمجھنے سے قاصر ہے تو غلط نہ ہوگا۔کیونکہ کلام خدا کے بعدیہ اس قدر فصیح و بلیغ کلام ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی کلام آہی نہیں سکا۔
اس خطبے کا آغاز عربی کے لفظ ’’الحمد اللہ‘‘سے ہوا ہے یہ ایک فصیح و بلیغ کلمہ ہےاور اٖفضل ترین عبادت ہے اور اس کلمے کی خاصیت یہ ہے کہ نماز ،جو دین کا ستون ہے اور قرآن مسلمانوں کی عظیم کتاب ہے جس کا کوئی ثانی نہیں ہے کا آغاز بھی اسی کلمے سے ہوتا ہے۔اس کے بعد جس کلمے کا انتخاب جناب امیرؑ نے کیا ہے وہ ہے’’ الذی لا یبلغ القائلون‘‘یعنی یہاں پہ جناب امیر المومنین ؑ نے مخلوق کی ناتوانی کا ذکر کیا ہے کہ بولنے والوں کے پاس ایسے الفاظ ہی نہیں ہیں کہ جن سے وہ خدا واحد و یکتا کی صفات کو بیان کر سکیں ،نہ ہی عقلوں میں اتنی استطاعت ہے کہ وہ اس کی قدروں کی حقیقت کو جان اور سمجھ سکیں ۔اس کے بعد مولا کائنات اس بات کی وجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’ کیونکہ عقلوں نے ایسی صفات و تعریف نہ دیکھی ہے نہ سنی ہے‘‘ اس لئے وہ اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتیں، نہ ہی اس کے مقام کی عظمت کےاحاطے کی کوئی حد معین ہے۔یہ کائنات اس کی قدرت کا ادنیٰ سا شاہکار ہے ۔خدا واحد و یکتا کی صفات کو بیان کرتے ہوئے جناب امیر فرماتے ہیں کہ وہ ظاہر و باطن کے ہر راز سے واقف ہے ،آسمان کے برجوں سے لے کر زمین کی گہرائیوں تک کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے یہاں سوال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کیا وہ سینوں کےرازوں سے لے کر تمہاری نیتوں تک سے واقف نہیں ہے؟اور پھر فرماتے ہیں کہ جب ہماری عقلیں اس کی مخلوق کی صفات و خصائص کا اندازہ نہیں کر سکتیں تو کیسے مالک کی صفات کو سمجھ سکیں گی؟پھر مولا کائنات دین کے نقطہ آغاز کو خدا شناسی قرار دیتے ہیں ۔اور معرفت کی بنیادی حیثیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
اما م علی علیہ اسلام نےاس میں چند صفات پروردگار ذکر کیں ہیں۔
اول: امام نے انسان کی ناتوانی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان اس قابل بھی نہیں ہے کہ خدا کی مختلف نعمتوں کا شکر ہی ادا کر سکے۔
دوم:مرحلہ دوم میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان خدا کی حقیقت تک پہنچنے سے عاجز ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ ذات لامحدود ہے، اس کی قدرت بھی لامحدود ہے اور اس کی نعمتیں بھی لامحدود ہیں ۔اس کے بعد یہ کہا گیا ہے اگر اس دنیا کی خلقت پر غور کیا جائے تو اس کی قدرت لازوال اور فراوان نعمتوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔[1]
امام فرماتے ہیں کہ خدا کی صفات کمالیہ اور جمالیہ بھی لامحدود ہیں اور ہم اس سے عاجز ہیں کہ اس کی صفات کو سمجھ سکیں ۔فرشتے اور انسان اس کی مدحت میں شب و روز مصروف ہیں کیونکہ خدا کی بے مثال قدرت کو جانتے ہیں تمام موجودات دنیا یہ بات جانتے ہیں کہ اس کے کمالات کی کوحد مقرر نہیں ہے ۔تمام پیامبروں اور انسانوں میں بلند ترین مرتبہ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے اور حدیث میں ہے کہ وہ خدا کی معرف سے عاجزی ظاہر کرتے ہیں۔
ما عرفناک حق معرفتک[2]
ہم آپ کی معرفت نہیں رکھتے۔
جب پیغمبر کہ جو سب سے افضل ترین شخص اس دنیا میں موجود تھے جن کاثانی نہ کوئی تھا نہ ہے اور نہ ہوگاوہ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ خدا کی معرفت حاصل کرنے سے عاجز ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ خدا کی معرفت عام لوگ حاصل کر سکیں ؟بلکہ امام علیؑ اسی خطبے میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ خدا کی معرفت تو بہت بڑی بات ہے ہم لوگ اس قابل بھی نہیں ہیں کہ خدا کی مخلوق کی حقیقت کو سمجھ سکیں تو کیسے ممکن ہے کہ خدا کی معرفت حاصل کر سکیں؟۔ہماری معرفت خدا کے مقابل یہ ہی ہو سکتی ہے کہ ہم اپنی عاجزی کا اقرار کر یں ۔روایت میں ملتا ہے کہ ایک بار خدا وند متعال نے حضرت موسی علیہ اسلام سے فرمایا کہ میرے شکر کا حق ادا کرو تو حضرت موسی نے فرمایا خدایا میں کس طرح تیرے شکر کا حق ادا کر سکتا ہوں کہ اگر ایک بار میں نے شکر ادا کیا تو اس شکر کی توفیق بھی تیری ہی طرف سے میسر تھی اس وجہ سے میرے لیے ضروری ہے کہ اس توفیق کے لیے پھر تیرا شکر ادا کروں اس طرح ہر شکر کی توفیق پہ ایک شکر بنتا ہے میں بندہ عاجز تیرے شکر کا حق ادا نہیں کر سکتا تو خدا وند متعال نے ارشاد فرما یا ’’یا موسی الان شکرتنی حین علمت ان ذلک منی‘‘[3]’’اے موسی اب تم نے میرے شکر کا حق ادا کر دیا کہ تم نے اپنی ناتوانی کو پہچان لیا ہے‘‘لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب ہم الحمداللہ کہتے ہیں تو اس کا مطلب بھی خدا کا شکر کرنا ہےمگر جب انسان اس کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے الحمداللہ کہے اس وقت خدا کے شکر ادا کرنے کا حق ادا ہو گا ۔[4]
باب دوم
شناخت خدا:
اس حصے میں امیرالمومنین علیہ اسلام نے کامل خدا شناسی کے بارے میں بات کی ہے کہ اگر دروس خدا شناسی کو جمع کیا جائے تو اس سے بالاتر چیز نہیں ہو گی پانچ مرحلوں میں امام نے خدا شناسی کو بیان کیا ہے۔
۱۔شناخت اجمالی ناقص
۲۔شناخت تفصیلی
۳۔مقام توحید وصفات
۴۔مقام اخلاص
۵۔مقام نفی تشبیہ
اس مرحلے کا آغاز ہی اس جملے سے کیا گیا ہے کہ ’’اول الدین معرفتہ‘‘[5]
اس میں شک نہیں ہے کہ اس معنی میں مجموعہ عقائد،وظائف الٰہی،اعمال و اخلاق ہیں اور یہ روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اس کی بنیاد معرفۃ الٰہی ہے اس کے علاوہ کسی عبادت کا ثمر نہیں ملتا۔کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ خدا کی معرفت سے پہلے بھی کوئی علم وجود رکھتا ہے اور اس کے بارے میں تحقیق و مطالعہ مذہب کی اولین ضرورت ہے یہ بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ خدا کو جاننا خدا کی معرفت حاصل کرنا دین کی پہلی اساس ہے۔یہ نقطہ بہت مہم ہے کہ یہ پہچان انسان کی فطرت میں ہیں ۔ یہ نقطہ بھی مہم ہے کہ یہ شناخت خدا وند متعال نے انسان کی فطرت میں رکھی ہے حتی اس کی تبلیغ کی بھی ضرورت نہیں ہے یہاں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر تبلیغ کی ضرورت نہیں ہے تو خدا نے پیامبر کیوں بھیجے ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا نے پیا مبر اس لیے بھیجے کہ جو اجمالی شناخت اس نے وجود انسان میں رکھی ہے انبیا علیہ اسلام اس کو کامل شناخت میں بدل دیں اور انسان کے اندر موجود اس عقیدے کواتنا مضبوط کر دیں کہ وہ اپنے آس پاس موجود شرک کے ماحول سے آلودہ نہ ہو ۔[6]
اس کے بعد فرماتے ہیں:
وَ كَمَالُ مَعْرِفَتِهِ التَّصْدِيقُ بِه [7]
اور کمال معرفت اس کی تصدیق ہے ۔
یہاں جو نقطہ مہم ہے وہ معرفت اور تصدیق ہے اب تصدیق اور معرفت میں کیا فرق ہے؟ اس میں مختلف تفاسیر ہیں:
۱۔ یہاں معرفت سے مراد فطری شناخت ہے اور تصدیق سے مراد یہاں شناخت علمی و استدلالی ہے۔
۲۔یہاں معرفت سے مراد شناخت اجمالی ہے اور تصدیق سے مراد شناخت تفصیلی ہے ۔
۳۔یہاں معرفت سے مراد علم و آگاہی کا اشارہ خدا کی طرف ہے اور تصدیق سے مراد ایمان ہے۔[8]
مگر ہم جانتے ہیں کہ معرفت ایمان سے الگ ہے بطور مثال ایسے ہو سکتا ہے کہ ایک چیز پر ہم یقین تو رکھتے ہوں مگر ایما ن قلبی یعنی اس کو دل سے تسلیم کرنا اور اس کے تابع ہو جانا اس طرح ایما ن نہ رکھتے ہوں ۔مثلاً ہمارے علما بزرگ اس چیز کو واضح کرنے کے لیے ایک مثال دیتے ہیں کہ ایک شخص جب زندہ ہے تو ہم اس کو بہت پیار کرتے ہیں مگر وہ مر جائے تو ہم میں سے بہت سے لوگ اس کے ساتھ اکیلے رات کی تاریکی میں نہیں رہ سکتے حالانکہ وہ بخوبی اس بات کو جانتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ مردہ ہے مگر شاید یہ یقین ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوتاکہ وہ پھر بھی اس کے ساتھ رات نہیں گزارتے ۔کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ان کا یقین ایک سطحی درجے کا ہو ۔ اس لیے وہ رات گزارنے سے ڈرتے ہیں مگر جب یہی یقین اپنے کمال کے درجے تک پہنچ جاتا ہے تو پھر حاضر ہونا یا نہ ہو نا فرق نہیں کرتا اسی لیے ایک جگہ امیر المومنین علیہ اسلام فرماتے ہیں :
لو كشف الغطا ما ازددت يقينا[9]
اگر میرے سامنے سے حجابات ہٹا بھی دیئے جائیں تو بھی میرے یقین میں رائی برابر اضافہ نہ ہو گا۔
یعنی یہ یقین کی وہ منزل ہے کہ پھر جس پر بھی آپ کو یقین ہے وہ سامنے ہو یا نہ ہو اس بات سے فرق نہیں پڑتا ۔ا س کے اگلے مرحلے میں امام فرماتے ہیں :
وَ كَمَالُ التَّصْدِيقِ بِهِ تَوْحِيدُه[10]ُ
کمال تصدیق توحید ہے
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کامل معرفت اورمختلف تعبیروں سے اور تفاسیر کے استدلا ل و برہان سے خدا کو پہچان لیں تو بھی معرفت خدا کامل نہیں ہوتی کیونکہ توحید کامل وہ ہے کہ خدا کو ہر مثال اور ہر تشبیہ سے منزہ و مبرہ تصور کیا جائے۔یعنی اگر کسی نے خدا کو کسی چیز سے تشبیہ دی یا یہ کہہ دیا کہ وہ اس جیسا ہے گویا اس نے خدا کو صحیح پہچانا ہی نہیں ہے۔کیونکہ خدا ایسا وجود ہے جو لامحدود ہے وہ ہر کسی اور ہر چیز سے بے نیاز ہے اس کے وجود کو کسی مادی چیز سے تشبیہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو محدود کر دیا کیونکہ ان دونوں مخلوقات میں سے ہر ایک دوسرے کی طرح ہیں یعنی دونوں ایک جیسے ہیں سے مراد یہ ہو گی کہ جو کمالات کا فقدان اس چیز میں ہے وہی کمالات کا فقدان (نعوذ بااللہ )خدا میں بھی ہے اس لیے جب یقین اپنے آخری مرحلے پہ پہنچتا ہے تو ایسا انسان خدا کو یکتا و بے مثال مانتا ہے۔
اس مرحلے میں امام فرماتے ہیں :
وَ كَمَالُ تَوْحِيدِهِ الْإِخْلَاصُ لَهُ[11]
اور کمال توحید تنزیہ و اخلاص ہے۔
اخلاص کا مادہ خلوص سے ہے یعنی دوسری چیزوں سے پاک کرنے کے معنی میں ہے [12]
یہاں اخلاص سے مراد اخلاص علمی و قلبی ہے مفسران نہج البلاغہ میں بحث ہے کہ اخلاص علمی سے مراد یہ ہے کہ ہر کوئی خدا کی معرفت رکھتا ہو صرف اسی کی عبادت کرتا ہو اورہر کام کی بازگشت خدا کی طرف ہے[13]
مگر اس سے پہلے کا اور بعد کا جملہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ ایک ا عتقادی بحث ہے ۔ اخلاص قلبی سے مراد یہ ہے کہ دل مکمل طور پر خدا کی طرف متوجہ ہو ، ایک لمحے کے لئے بھی یاد خدا سے خالی نہ ہو،خالص اسی کی پرستش کی جائے اور اس کو ہر طرح کی تشبیہ سے پاک و منزہ مانا جائے ۔[14]اس سے اگلے مرحلےمیں فرماتے ہیں :
وَ كَمَالُ الْإِخْلَاصِ لَهُ نَفْيُ الصِّفَاتِ عَنْهُ[15]
اور کمال اخلاص یہ ہے کہ اس سے صفات کی نفی کی جائے۔
اوپر جب بات کی گئی تو اخلاص کے بارے میں اجمالی طور پر بات کی گئی مگر اس جملے میں آ کر اخلاص اپنے کمال تک پہنچتا ہے ۔یہاں تفصیلی طور پر یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اخلاص یہ ہے کہ خدا کو ہر اس صفت سے جو اس کی خلق کردہ مخلوق رکھتی ہے منزہ و مبرہ جانا جائے چاہے وہ صفت اجزائے ترکیبی رکھتی ہو یا نہ رکھتی ہو ،ہم جانتے ہیں کہ تمام موجود سوائے خدا کے ممکن الوجود ہیں حتی کہ وجود خارق العادہ بھی ممکن الوجود میں آتے ہیں یعنی وجود خدا کی صفات نہ خارج میں قابل فہم ہیں نہ ہی عقلی لحاظ سےقابل فہم ہیں اور اگر کوئی اس بات کو نہیں سمجھ پاتا تو وہ توحید حقیقی کو بھی درک نہیں کر پاتااور اس طرح ہمیں سمجھ آتی ہے کہ یہ جو امام نے فرمایا کہ اخلاص یہ ہے کہ اس سے صفات کی نفی کی جائے یہ نفی صفات کمالیہ کی ہے کیونکہ تمام صفات حیات ،قدرت اور علم سبھی اس میں کمال کی اوج پر ہیں اور یہ اس کے عین ذات ہیں اس کی ذات سے جدا نہیں ہیں اور انسانوں کے پاس جو یہ صفات ہیں یہ ناقص و محدود ہیں اور سب کو ان صفات سے اسی نے نوازا ہے اور خدا نقص سے منزہ و مبرہ ہے۔ [16]
اسی سے آگے فرشتوں کا ذکر تے ہوئے امام فرماتے ہیں ۔
لا یتَوَهَّمُونَ رَبَّهُمْ بِالتَّصْویرِ وَ لا یجْرُونَ عَلَیهِ صِفاتِ الْمَصْنُوعینَ۔[17]
وہ شکل و صورت کے ساتھ اپنے رب کا تصور نہیں کرتے نہ ہی اس پر مخلوق کی صفات طاری کرتے ہیں ۔
یعنی یہاں خدا کے اور مخلوق خدا کے فرق کو واضح کیا گیا ہے کیونکہ مخلوق کی صفات ذات مخلوق سے الگ ہیں یعنی ایک وجود انسان ہے دوسری صفات ہیں جو وجود انسان سے الگ ہیں کیونکہ صفات وجود انسان سے الگ تصور کی جا سکتیں ہیں اس لئے انسان کی ذات مرکب ہو جاتی ہے جبکہ خدا کی صفات اس کی عین ذات ہیں اسی لیےہر قسم کی ترکیب سے ذات خدا منزہ و مبرہ ہے۔ در اصل بحث توحید میں سب سے بڑا خطرہ ہی یہ ہے کہ خدا کی صفات کا مخلوقات کی صفات سے مقایسہ کیا جائے اور صفات خدا کو بھی خدا سے الگ مانا جائے ایک مسلمانوں کا اشاعرہ گروہ ہے جو اس مشکل میں گرفتار ہے ۔
لِشَهادَةِ کُلِّ صِفَة أنَّها غَیرُ الْمَوْصُوفِ وَ شَهادَةِ کُلِّ مَوْصُوف أنَّهُ غَیرُ الصِّفَةِ[18]
ہر صفت شاہد ہے کہ وہ اپنے موصوف کی غیر ہے اور ہر موصوف شاہد ہے کہ وہ صفت کے علاوہ کوئی چیز ہے ۔
یہ بیان ایک منطقی دلیل کے تحت روشن و واضح ہوتا ہے کہ ہر موصوف جانتا ہے کہ وہ اپنی صفات کا غیر ہے اور ہر صفت بھی اپنے موصوف سے الگ ہےلیکن یہ سب عام مخلوق میں اس طرح جدا تصور کی جاسکتیں ہیں مگر خدا کے لئے ہمیں اس عقیدے کا معتقد ہونا چاہئے کہ ان تمام صفات کو خدا کے لئے جدا تصور نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ تمام صفات یعنی علم ،قدرت،حیات،ازلیت و ابدیت اس کی عین ذات ہیں خدا سے جدا نہیں ہیں ۔اصل میں ہم انسان کیونکہ اس قسم کے مطالعات شکم مادر سے نہیں رکھتے تھے اور اس دنیا میں آنے کے بعد ہم میں سے ہر ایک نے اپنی استعداد کے مطابق علم حاصل کیا اور ہر ایک نے ہر علم کو اپنے طریقے اور سمجھ کے مطابق لیا اس لئے اس طرح کے مطالب کو سمجھنا اور اور دوسروں کو سمجھانا ہمارے لئے بہت مشکل ہے ۔اسی بحث کے اختتام کے لئے فرماتے ہیں:
فَمَنْ وَصَفَ اللهَ سُبْحانَهُ فَقَدْ قَرَنَهُ وَ مَنْ قَرَنَهُ فَقَدْ ثَنّاهُ وَ مَنْ ثنّاهُ فَقَدْ جَزَّاهُ وَ مَنْ جَزَّاهُ فَقَدْ جَهِلَهُ[19]
لہذا جس نے ذات الہی کے علاوہ صفات مانے اس نے ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیا اور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا اس نے دوئی پیدا کی اور جس نے دوئی پیدا کی اس نے اس کے لئے جز بنا ڈالا اور جو اس کے لئے اجزا کا کا قائل ہوا وہ اس سے بے خبر رہا۔
جیسا کہ پہلے بھی ہم نے ذکر کیا کہ خدا کو ہم مخلوقات کی طرح سے نہیں سمجھ سکتے ابھی اسی بحث کو ادامہ دیتے ہوئے امام معصومؑ فرماتے ہیں کہ جس نے اس ذات کی صفات کو مخلوقات کی صفات کی طرح سمجھا یعنی ایک علیحدہ سے جز سمجھا وہ ذات خدا کے وجود میں اجزاو ترکیب کو لے آیا بلکل اسی طرح جس طرح انسان اپنی ذات و صفات میں ترکیب رکھتا ہے یعنی ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان ذات و صفات سے مرکب ہے اسی طرح خدا بھی (نعوذ باللہ )مرکب ہو جائے گا ۔در اصل امام کے کلام کا معنی یہ ہے کہ اگر صفات خدا کومخلوقات کی صفات کی طرح سمجھیں گے تو یہ چیز خدا کے لئے ترکیب کا باعث بنتی ہے جو کہ وجود خدا کے ساتھ سازگار نہیں ہے کیونکہ وہ واجب الوجود ہے[20]اور واجب الوجود اجزائے ترکیبی سے منزہ ہوتا ہے اور ہر ترکیب اپنے اجزا کی محتاج ہوتی ہے اور خدا کی ذات ہر چیز سے بے نیاز ہے اور کسی چیز کی ضرورت کا محتاج ہونا واجب الوجود کے لئے سازگار نہیں ہے۔[21]
وَ مَنْ جَهِلَهُ فَقَدْ اَشارَ اِلَیهِ وَ مَنْ اَشارَ اِلَیهِ فَقَدْ حَدَّهُ وَ مَنْ حَدَّهُ فَقَدْ عَدَّهُ[22]
جو اس (خدا)سے بے خبر رہا اس نے اسے قابل اشارہ سمجھ لیا اور جس نے اس کی حد بندی کی اس نے اسے محدود سمجھا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں اشارہ کرنے سے کیا مراد ہے اس میں مفسرین نہج البلاغہ میں دو تفاسیر ہیں :
۱۔ ایک یہ کہ اس سے مراد عقلی استدلال ہے
۲۔ دوسرا یہ کہ اس میں حسی و عقلی دونوں شامل ہیں ۔
یعنی انسان ایک محدود قدرت عقل و حیات رکھنے والا موجود ہے اس لئے جب وہ خدا جیسی ہستی کو اس کی لا محدودیت کے ساتھ سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے تو وہ اپنے محدود ذہن میں اس کے لئے ایک محدود تصور قائم کرتا ہے یا کسی محدود چیز کی طرف تشبیہ یا اشارہ کرتا ہے تو امام نے اس چیز کی ممانعت کی ہےدر اصل انسان ایک محدود ظرفیت رکھنے والا وجود ہے اور جوخود محدود ہو وہ لا محدود کو کیسے سمجھ سکتا ہے ؟اسی لئے امام علی علیہ اسلام ہی دوسری جگہ نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
تو وہ اللہ ہے جو عقلوں کی حد میں گھر نہیں سکتا۔[23]
دوسری تعبیر میں یہ ہے کہ محدود چیزیں قابل شمار ہوتیں اور جو چیزیں قابل شمار ہوتیں ہیں وہ ایک جگہ پہ موجود اور دوسری جگہ پہ نہیں ہوتی جبکہ تنہا خدا کی لامحدود ذات ایسی ذات ہے کہ جو ہر جگہ پہ موجود ہے اور اس طرح دوسرا وجود نہیں ہے اس لئے قابل شماربھی نہیں ہے اسی لئے اس تعبیر میں عام طور پرتمام منطقی و فلسفی استدلال کے بعد یہ ہی کہا گیا ہے کہ خدا کی ذات عقلوں کی فہم سے بالاتر ہستی کا نام ہے۔یہ وہی مطلب ہے کہ امام باقر ؑ نے ایک جگہ فرمایا:
کُلُّ مَا مَیزْتُمُوهُ بِأوْهامِکُمْ فى اَدَقِّ مَعانیهِ مَخْلُوق مَصْنُوع مِثْلُکُمْ مَرْدُود اِلیکُمْ[24]
ہر وہ چیز جو تمہارے ذہن گمان میں تصور کی طرح آجائے وہ تمہارے جیسی ہی مخلوق ہے اور خدا اس برتر و بالاتر ہے ۔
اس احتمال سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ کوئی اگر ذات اقدس کے لئے اشارے کا قائل ہو جائے تو اس نے گویا خدا کو تشبیہ سے ملا دیا اور وہ اس پاک ذات کے لئے جسم و جسمانیت کا قائل ہو گیا اور یہ جہالت ہے ۔
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر خدا انسان کی سمجھ سے بالاتر اور کسی طرح بھی سمجھ آنے والا نہیں تو کیوں ہم اس کےسامنے دست دراز کریں ؟ کیوں اس کے نزدیک ہونے کی کوشش کریں ؟
جواب یہ ہے کہ معرفت اور شناخت دو نوں کے دو مراحل ہیں ۔
۱۔معرفت اجمالی
۲۔معرفت تفصیلی
۳۔شناخت کنہ ذات
۴۔شناخت مبدا افعال
اول:معرفت اجمالی یعنی جب ہم اس نظام کائنات پر نگاہ کرتے ہیں اس کے منظم نظام پر نظر کرتے ہیں اس میں موجود مخلوقات پر نگاہ کرتے ہیں حتی اپنے وجود پر نظر کرتے ہیں تو یہ اجمالی طور پر ہمارے لئے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کوئی خالق موجود ہےیہ اجمالی معرفت کا آخری درجہ ہے کہ وجود کو درک تو کرتے ہیں[25] مگر جب خود سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کون ہے ؟کہاں ہے؟ کیا ہے ؟تو سوائے حیرت کے ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آتا اور ہمیں لگتا ہے کہ اس کی معرفت کا راستہ بند ہے اس بات کو اس سادہ سی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ زمین قوت جازبہ رکھتی ہے مگر وہ نظر نہیں آتی اب اگر وہ قوت جازبہ نہ ہو تو تمام زمین اور اس کے موجودات تہہ و بالا ہو جائیں ۔ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے بھی اس قوت کو جانتے ہیں اور اس کی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں مگر وہ کیسی ہے ؟ اس کی کنہ ذات کیا ہے ؟ یہ جواب کسی کے پاس نہیں ہے ہم بس اتنا جانتے ہیں کہ اس نام سے کوئی قوت اس دنیا میں موجود ہے جس کی بنا پر یہ دنیا کھڑی ہے یہ ایک علم اجمالی ہے مگر اس قوت کا علم تفصیلی کیا ہے ہم نہیں جانتے تو جب ہم اس کو نہیں سمجھ سکتے تو کجا اس کے خلق کرنے والے کو سمجھ سکتے ہیں ۔ہمارے پاس بس یہ راہ ہے کہ اس کی قدرتوں کو دیکھتے ہوئے اس کی ذات کی پرستش کریں۔
یہ جملہ بہت دقیق ہے جیسا کہ اوپر کی گئی وضاحت سے بات واضح ہو گئی ہے کہ اگر کسی نے خدا کو محدود تصور کیا اس نے خدا کو محدود کیا اور اگر کسی نے سوال کیا کہ خدا کس چیز پر ہے تو گویا اس نے باقی چیزوں سے اس کو خالی سمجھ لیا یعنی خدا کا وجود ایسی ہستی ہے کہ جو کسی سے مشابہت نہیں رکھتی اس لئے اسے کسی چیز سے تشبیہ دینا بھی درست نہیں ہےاس کی مثال کسی چیز جیسی نہیں ہے ۔
اس ذات کا لامحدود ہونا ذکر کیا گیا ہے اگر کسی نے یہ سوال کیا کہ وہ کس چیز پر ہے تو اس نے گویا اسے مادی چیزوں کی طرح شمار کیا۔
وَ مَنْ قالَ فیمَ؟ فَقَدْ ضَمَّنَهُ[26]
اس جملے میں جو فی کا لٖفظ استعمال ہوا ہے اس کا متبادل اردو میں یعنی احاطہ کیا ہوا ہونا یعنی ہم عام انسانوں کی طرح (نعوذ باللہ )خد اکے بارے میں بھی یہ کہیں کہ وہ یہاں ہے ۔اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ خدا یہاں ہے تو گویا ہم نے دوسری جگہوں کو اس کے وجود پاک سے خالی سمجھ لیا یعنی ہم یہ کہیں کہ بلآخر خدا کے وجود کی بھی( نعوذباللہ )حد ہے اگر ہم اس کے وجود کے لئے حدود کے قائل ہو جاتے ہیں تو اس کا وجود لامحدود کی صفت سے خالی ہو جاتا ہے اور یہ چیز واجب الوجود کے لئے درست نہیں ہے پس جو بھی اس کو عرش یا آسمانوں میں کہیں سمجھتا ہے تو گویا وہ اس شخص کی ماند ہے جو کسی مخلوق کی پرستش کر رہا ہے اور اسے خدا کا نام دے دیا ہے ۔
بعض لوگ خدا کی جسمانیت پر اس آیت کو دلیل بناتے ہیں اَلرَّحْمنُ عَلَى الْعَرشِ اسْتَوى یعنی رحمٰن عرش پر ہے اب لفظ استوی کا مطلب یہاں یہ نہیں کہ وہ اس پر سوار ہے بلکہ استوی کا یہاں مطلب تسلط و حکمرانی کے ہیں کہ وہ عرش پر تسلط و حکمرانی رکھتا ہے بہر حال اگر کوئی خدا کے وجود کے لئے اس جسمانیت کی تعبیر کا قائل ہوتا ہے تو یہ بہت بچگانہ تعبیر ہے ۔
۲۔یہ کہ وہ لامحدودیت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس کی ابدیت کو بیان کرتا ہےوہ ایک ایسا وجود ہے جو ہمیشہ سے ہے اور کسی چیز سے وجود میں نہیں آیا ہے کائِن لا عَنْ حَدَث یعنی وہ کسی چیز سے وجود میں نہیں آیا ۔ مَوْجُود لا عَنْ عَدَما وہ ایسا وجود ہے جو کبھی عدم نہیں تھا تو اپنی اس خصوصیت سے وہ تمام مخلوقات سے مختلف ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی موجودگی و عدم موجودگی کی تاریخ ہے اور واحد جو وجودکہ و ہ عدم کی کوئی تاریخ نہیں رکھتا وہ خدا ہے [27]
۳۔مَعَ کُلِّ شَیء لا بِمُقارَنَة، وَ غَیرُ کُلِّ شَیء لا بِمُزایلَة[28]
وہ ہر چیز کے ساتھ ہے ،مگر جسمانی اتصال کے بغیروہ ہر چیز سے علیحدہ ہے نہ جسمانی دوری کے طور پر
بہت سے فلاسفروں اور سائنسدانوں خالق و مخلوق کے اس تعلق کو سمجھا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ اس طرح ہے جیسے ایک بہت بڑا شعلہ ہے اور ہم اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی شمع روشن کر دیتے ہیں مگر اس طرح بھی یہ تعلق دو آزاد مخلوقات کا بنتا ہے نہ کہ خالق و مخلوق کا اس لئے حقیقت اس سے مختلف ہے کیونکہ مخلوق و خالق کے مابین فرق کسی کمزور اور مضبوط وجود کے درمیان فرق نہیں ہے بلکہ ہر لحاظ سے یہ فرق ایک آزاد وجود اور ایک منحصر وجود کے درمیان ہے اور ساری کائنات اسی پر منحصر ہے اور ہر لمحہ وہ اس کے وجود کی روشنی سے بہرافیض ہوتی ہے ،خدا کائنات نہ ہی الگ ہے اور نہ ہی اس کے جیسا ہے جیسا کہ اتحاد و وحدت اور تصوف والے یقین رکھتے ہیں بلکہ حقیقی توحید اسی حقیقت کو سمجھنے پر منحصر ہے۔[29] اس کو ہم ایک مثال سے سمجھتے ہیں بے شک یہ مثال ناقص ہے مگر مطالب کو کسی حد تک واضح کرنے میں ہماری مدد کرے گی ۔
سورج کی کرنیں اگرچہ موجودات پہ اور سورج کے گولے کے علاوہ اطراف میں مستقل پڑتیں ہیں اور کاملا اسی پر منحصر ہیں لیکن سورج کی کرنیں سورج سے الگ وجود رکھتیں ہیں مگر اجنبیت اور علیحدگی کے معنی میں تضاد نہیں رکھتیں،اس کے ساتھ بھی ہیں مگر اتحاد کے معنی میں بھی نہیں ہیں۔بلاشبہ خدا کا اس کی مخلوق سے تعلق اس سے بھی زیادہ قریب ہے اور مخلوقات کا خدا پر انحصار سورج سے کئی گنا زیادہ ہے اور یہ وحدت کی عین مثال بھی نہیں ہے بلکل اسی طرح انسان اور اس کی روح کی مثال بھی لی جا سکتی ہے کہ انسان سے الگ اس کا ایک وجود بھی ہے مگر انسان کاملا روح کا محتاج بھی ہے یعنی اگر روح نہیں تو انسان کا بھی کوئی وجود نہیں بلکل اسی طرح خالق مخلوق سے الگ ایک وجود رکھتا ہے اور مخلوق کاملا خالق پر انحصار کرتی ہے ۔اس میں شک نہیں ہے کہ خدا وند متعال کا اپنی مخلوق سے اس سےبڑھ کر قریبی تعلق ہے اور ہمارا ناقص علم اس قابل نہیں ہے کہ اس کی بہترین مثال پیش کر سکیں۔
۴۔فاعِل لا بِمَعْنَى الْحَرَکاتِ وَالآلَةِ[30]
وہ فاعل ہے مگر حرکات و آلات کا محتاج نہیں ۔
اگلے جملے میں امام ؑ نے خدا کے ایک اورخالص جوہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے وہ کام کو انجام دینے والاہے مگر وہ حرکات و سکنات کا محتاج نہیں ہے ہماری روز مرہ کی زندگی میں فاعل ایسے شخص کو کہتے ہیں کہ جو اعضا و جوارح سے کام کو انجام دیتا ہو اور اس مرحلے میں آکے انسان کی قدرت و طاقت محدود ہے اور انسان کے اعضا اس کی زندگی کے لئے کامل ترین اعضا ہونے کے باوجود ہر کام انجام دینے کی قدرت نہیں رکھتےاور دنیا میں موجود ابزار سے مدد لیتا ہے اور اپنی اس طاقت کی نااہلی کی تلافی کرتا ہے وہ کیل ٹھوکنے کے لئے ہتھوڑے کی مدد لیتا ہے آرے سے لکڑی کاٹتا ہے اسی طرح مختلف کاموں کو انجام دینے کے لئے استعمال کرتا ہے یہ تمام اجزا جسم و جسمانیت کے ہیں۔مگر خدا ایسی ہستی ہے جو جسم و جسمانیت سے منزہ و مبرہ ہے نہ ہی اس کی طاقت کی کوئی حد نہیں اور نہ ہی اسے اپنی لامحدود طاقت کی بنا پر اسے کسی اوزار کی ضرورت ہے وہ بس کن فرماتا اور سب کھ ہو جاتا ہے [31]
۵۔بَصیر اِذْ لا مَنْظُورَ اِلَیهِ مِنْ خَلْقِهِ[32]
وہ اس وقت بھی دیکھنے والا تھا جب مخلوقات میں سے کوئی دیکھائی دینے والا نہ تھا
یہ درست ہے کہ بصیر بصر کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی چشم بینا کے لئے ہی آتا ہے مگر یہ معنی خدا کے لئےاپنے حقیقی معنی میں نہیں آئے گا بلکہ خدا کے لئے بصیر کا معنی یعنی ہر چیز کو جانتا ہےبلکہ وہ ہر چیزکے خلق ہونے سے پہلے بھی بصیر تھا اس بنا پر اس کا بصیر ہونا اس کے لا محدود علم کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اس کا علم ازلی ہے۔
مُتَوَحِّد اِذْ لا سَکَنَ یسْتَأنِسُ بِهِ وَ لا یسْتَوْحِشُ لِفَقْدِهِ[33]
وہ یگانہ ہے اس لئے کہ اس کا کوئی ساتھی ہی نہیں ہے کہ وہ جس سے وہ مانوس ہو اور اسے کھو کر پریشان ہو جائے۔
ppیہ اس بات کی وضاحت ہے کہ انسان کی قدرت محدود ہے اور وہ زندگی گزارنے کے لئے دوسروں کا محتاج ہے یہی وجہ ہے کہ انسان تنہائی میں وحشت محسوس کرتا ہے اور سب کے بیچ وہ راحت و سکون محسوس کرتا ہے اوراپنی اسی محدود فکر کی بنا پر وہ سوچتا ہے کہ خدا کس طرح مونس و محبت کرنے والے ساتھی اور اسی عین تنہائی میں وہ آرام محسوس کرتا ہے۔ در حقیقت کہ وہ وجود یگانہ ہے اور نہ اسے کسی محبت کرنے والے کی ضرورت ہے نہ ہی وہ کسی کی دشمنی سے ہراساں ہےکہ کسی کی مدد کی ضرورت ہو وہ واحد ہے کوئی اس کی مثال نہیں کہ وہ کسی سے محبت کرے اسی دلیل کی بنا پر وہ احد ہے۔[34]
باب سوم:
خلقت کائنات:
اس خطبے میں پہلے معرفت خدا کے بارے میں بات ہوئی ابھی اس میں خلقت کائنات کی بات کی ہے ۔
أنْشَأ الْخَلْقَ إنْشاءً وَ ابْتَدأهُ اِبْتِداءً بِلا رَوِيَّة أجالَها وَلا تَجْرِبَة اسْتَفادَها وَلا حَرَکَة أحْدَثَها وَلا هَمامَةِ نَفْس اضْطَرَبَ فيھا[35]
اس نے پہلے پہل خلقت کو ایجاد کیا بغیر کسی فکر کی جولانی کے اوربغیر کسی تجربے کے ،کہ جس سےفائدہ اٹھانے کی اسے ضرورت پڑی ہواور بغیر کسی ولولہ اور جوش کے ،کہ جس سے وہ بے تاب ہوا ہو۔
یہاں امام ؑ نے خدا اور مخلوق کے کام کرنے کے انداز میں فرق بیان کیا ہے کس طرح کہ انسان جب اندرونی ولولہ و جوش سے متاثر نہیں ہوتا تو کام کو انجام نہیں دیتا ہے اس کو انجام دینے کے لئے نتیجے کے بارے میں سوچتا ہے اور اپنے سابقہ تجربے سے اس کو کرنے میں مدد لیتا ہے مگر خد ا میں یہ صفات نہیں ہیں کیونکہ خدا کو ان میں سے کسی کی بھی ضرورت نہیں ہےقران پاک میں ارشاد ہوتا ہے : انَّما اَمْرُهُ اِذا اَرادَ شَيْئاً اَنْ يَقُولَ لَهُ کُنْ فَيَکُونُ۔[36]
جب وہ کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔
یہ تمام حالات جو اوپر بیان ہوئے ہیں یہ ایسے موجود سے مربوط ہیں جس کی علم و قدرت محدود ہو مگر خدا چونکہ قدرت بے پایانی رکھتا ہے اس لئے اس کو ضرورت نہیں ہے وہ ہر چیز پر قدرت تامہ رکھتا ہے اور اپنے ارداے کی قطعیت کی بنا پر اس کی خلقت میں کہیں تزلزل و نقص نہیں ہوتا۔اس کے بعد امامؑ نے اشیا کی آفرینش میں وقت کی طرف اشارہ کیا کہ ہر چیز کو ایک مقرر وقت و اندازے سے پیدا کیا وقت کی طرف اشارے کے بعد امام ؑ نے ان کی کیفیت ترکیبی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ متضاد چیزوں مثلا سرد و گرم ،آگ و پانی ،روشنی و تاریکی میں ہم آہنگی پیدا کی اور ہر ایک موجود مثلا انسان ،چرند ،پرندسبزہ زار کے مواد کو الگ طبیعت کا مالک بنایا۔
وَ اَلْزَمَها أشْباحَها[37]
ہر ایک کو جدا گانہ طبیعت کا حامل بنایا۔
اس جملے میں امام ؑ نے خصائص اشیا کی طرف شارہ کیا ہے کہ اس ذات پاک نے ہر ایک کو الگ الگ خصائص دئے ہیں ۔یعنی خدا وند متعال نے ہر مخلوق کو دو خصوصیات دیں ہیں خصوصیات جو انسان کی جبلت کے اندر رکھیں گئیں ہیں مثلا زمان و مکان جیسی ضروریات ہیں یہ خصوصیات اس بنا پر دیں کہ ہر مخلوق خود کو دوسری مخلوقات میں سےپہچان سکے۔[38]اس جملے میں امام ؑ نے ایک مہم نقطے کی طرف اشارہ کیا ہے جس کا ذکر قران پاک میں بھی ہے کہ ہر مخلوق جو مادہ سے بنائی گئی ہے اس کے خلق ہونے کا ایک وقت تعیین کیا گیا ہے اور ایک ہی وقت میں ان میں تضاد و اختلافات بھی ہیں اور اسی وقت میں ایک چیز میں ہم آہنگی رکھتے ہیں کہ ہر کوئی اپنی منزل و راستے پہ گامزن ہے اور اپنے راستے سے ہٹتے نہیں ہیں ایک سمت سفر کر رہے ہیں۔موسم بہار و خزاں ،درختوں کے پتے سورج و چاند کی گردش ،اور اس کے گرد گھومتی زمین ،دن رات کا آنا جانا،انسان کی اندرونی و بیرونی قوتیں سب اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں جو اپنے انداز میں چیخ چیخ کر اس کی واحدانیت کی گواہی دے رہیں ہیں۔
باب چہارم:
اس باب میں امام ؑ نے خلقت جہان کی طرف اشارہ کیا ہے ۔
ثُمَّ اَنْشَأ سُبْحانَهُ فَتْقَ الاَجْواءِ و اطراف آن را از هم باز نمودوَ شَقَّ الاَرْجاءِ و نيز طبقات فضا و هوا را به وجود آورد وَ سَکائِکَ الْهَواءِ[39]
اس نے کشادہ فضا،وسیع اطراف و اکناف اور خلا کی وسعتیں خلق کیں اور ان میں ایسا پانی بہایا جس کے دریائےامواج کی لہریں طوفانی بحرزخارکی موجیں تہ بہ تہ تھیں۔
اس تمام حصے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ دنیا کی خلقت میں سب سے اہم کردار فضا کا ہے کہ جو سب کچھ مثلا سیارے ،ستارے چاند سورج حتی پورا نظام شمسی اسی فضا کے بلبوتے پر چل رہا ہےیہاں واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں پر لفظ ثم ترتیب تکوینی کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ ترتیب کی طرف اشارہ ہے یہاں علما و مفسرین کے نزدیک کے درمیان بہثیں ہیں۔
۱۔بعض لوگ اس چیز کے قائل ہیں کہ جس طرح سے اجسام کی حرکت کے بعد ہمیں زمانے کی موجودگی کا احساس ہواکیونکہ اجسم کی حرکت ہی وقت کا پیمانہ ہے اسی طرح خلا بھی مختلف چیزوں کے ابھرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے البتہ ہمارے ناقص علم سے یہ تصور کرنا ناممکن حد تک مشکل ہے کہ جس وقت پہلا جسم وجود میں آیا اس وقت جگہ بلکل نہیں تھی ۔
۲۔ دوسری تعبیر میں امام ؑ کے قول کے ظاہر کو لیتے ہیں کہ جو یہ فرماتے ہیں کہ خلا اور اس کے آس پاس کی جگہ خدا کی تخلیق ہے ۔
مخلوق کی تخلیق پانی سے ہوئی :
۱۔تخلیق کائنات میں جو امام علی علیہ اسلام کے الفاظ سے بات سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ ابتدا میں ایک پانی خلق کیا یا سادہ لفظوں میں پانی کی طرح کا ایک مادہ خلق کیا جس کو سمندری طوفان پہ رکھ دیا گیا اس طوفان کا کام یہ تھا کہ اس پانی کو محفوظ کر لے اس کو پھیلنے نہ دے اور اس کو اس کی حدود سے تجاوز نہ کرنے دے ۔
۲۔پھر ایک اور مائع خلق کیا گیا جس کا کام اس مائع میں لہریں اور اضطرب پیدا کرنا تھا اور اس سمندری طوفان نے پانی کی بڑی لہروں کو اور بڑا کر دیا اور اس میں اس قدر اضطرب پیدا کیا کہ اس کی لہریں اور بھی عروج پہ پہنچ گئیں کہ ان کو ایک کے بعد ایک کر کے فضا میں پھینک دیا گیا پھر اس سب کے بعد سات آسمان بنائے گئے ۔[40]
اس بات کو واضح کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس قسم کے الفاظ مثلا پانی ،ہوا طوفان ،اور دن یہ سب انسانوں کو مفہوم سمجھانے کے لئے تعبیرات استعمال کی گئیں ہیں کیونکہ کوئی بھی انسان اس چیز کو نہیں سمجھ سکتا جس کے بارے میں نہ اس نے سنا ہو نہ دیکھا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فقط لغت نگاروں نے استعمال کیے ہیں ۔
دنیا کی خلقت کے بارے میں جو سائنس کی تعبیر ہے وہ یہ ہے کہ ابتدا میں تمام کائنات کو گیس کے بلبوتے پر رکھا گیا تھا جو مائع سے مشابہت رکھتا تھا اور اسے دھواں کہا جا سکتا ہے اور پھر یہ دھواں بلند ہوتا گیا اس حد تک کہ اس کو فضا میں پھینکا گیا اور اس کے بعد کشش چقل جو کائنات کے تمام ذرات میں پائی جاتی ہے تھی کہ جس نے اس سارے نظام کو کنٹرول کر لیا یعنی نہ اس کو پھیل جانے کی اجازت دی اور نہ ہی اپنی حدود سے نکلنے کی اجازت دی ۔اس کے بعد اس نے ایک وسیع پیمانے پر حرکت شروع کی جہاں ایک سینٹرل فیوگل فورس تشکیل دی گئی ۔اس قوت کی وجہ سے ان اجسام کو جو گھوم رہے تھے کھلی فضا میں پھینک دیا گیا پھر اس سمندر کی جھاگ کو ظاہر کیا گیا اور پھر اس سے سات آسمان ابھر کر سامنے آئے ۔ہم بس اتنا کہہ سکتے ہیں سائنسی تعبیرات کے مقابلے میں قران اور آئمہ معصومینؑ کی استعمال کی گئیں تعبیرات ہمارے لئے زیادہ قابل فہم ہیں۔
باب پنجم:
اسلامی روایتوں میں ،فرشتوں اور ان کے اعمال ،،صفات اور احکام کے بارے میں زیادہ بحث ہوتی ہے لیکن شاید ان میں سے کسی میں بھی فرشتوں کی نوعیت کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہوئی ۔
علما اور اسلامی سکالرز بھی ان کو جسمانی مخلوق سمجھتے ہیں مگر جسم لطیف سے تعبیر کرتے ہیں کچھ تعبیروں میں لفظ نور کو فرشتوں کا بنیادی جزو قرار دیا گیا ہے مگر جو بھی ہے ہم بس روایات میں بیان شدہ حقائق ہی سے مدد لے سکتے ہیں روایات کے مطابق اس مخلوق میں مندرجہ ذیل خصوصیات پائی جاتیں ہیں۔
۱۔یہ عقل شعور رکھتے ہیں ۔
۲۔ہر وقت خدا کے تابع ہوتے ہیں اور ہر گز نا فرمانی نہیں کرتے ۔
۳۔ان کو خدا کی طرف سے کچھ وظائف پر معمور کیا گیا ہے جیسےانسا ن کے اعمال لکھنے والے ،روح قبض کرنے والے وغیرہ ۔
۴۔یہ مختلف مقامات پر تائنات کیے گئے ہیں ۔
۵۔فقط عبادت خدا انجام دینے والے
۶۔اور بعض ایسے ہیں جو انسانوں کی شکل دھار کر انبیا علیہ اسلام کے سامنے آئے تھے ۔
ا س کے علاوہ بھی ان کے بہت سے اوصاف بیان کئے گئے ہیں جو اس مختصر سی بحث میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔
باب ششم:
اس باب میں خلقت حضرت آدم علیہ اسلام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔خلقت انسان کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ اس حصے میں تین اور چیزوں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
۱۔جسم و روح یعنی دو مراحل
۲۔ملائکہ کا حضرت آدم کو سجدہ کرنا
۳۔حضرت آدم علیہ اسلام کی جنت میں زندگی اور ترک اولی کی بنا پر زمیں پہ آنا
۴۔حضرت آدم کی اولاد کا دنیا میں پھیلنا اور بعثت پامبران کا مقصد انسان کو کمال مطلق تک لے جانا۔
۵۔اور پھر سلسلہ پیامبران کی بنا پر انسان کے نفس کا کامل سے کامل تر ہوتےجانا اور آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آنا۔اور اسی جگہ قران پاک کے بارے میں بھی عمیق توضیحات ذکر کی گئیں ہیں۔[41]
مرحلہ اول:
ثُمَّ جَمَعَ سُبْحانَهُ مِنْ حَزْنِ الاَرْضِ وَ سَهْلِها، و عَذْبِها وَ سَبَخِهاتُرْبَةً[42]
پھر اللہ نے سخت و نرم اور شیرین و شورہ زار زمین سے مٹی جمع کی ۔
یہاں مولا کائنات نے خلقت انسان کی طرف اشارہ کیا یعنی کہنہ انسان کی طرف اشارہ کیا کہ مٹی سے بنا اور ایک ہی قسم کی مٹی بھی نہیں زمین کے مختلف حصے جو مختلف خصوصیات رکھتے تھے سے لیا ،یہ خدا کا جگہ جگہ سے مختلف اوصاف رکھنے والی مٹی لینا انسان کے اوصاف گوناگوں کی طرف اشارہ ہے کیونکہ وہ ان اوصاف کا محتاج ہے ۔
سَنَّها بِالْماءِ حتّى خَلَصَتْ وَ لاطَها بَالْبَلَّةِ حَتّى لَزَبَتْ[43]
اسے پانی سے اتنا بھگو دیا کہ صاف ہو کر نتھر گئی اور تری سے اتنا گوندھا کہ اس میں لس پیدا ہو گیا۔
در اصل یہاں پانی کا کردار اس الگ الگ جگہ سے اٹھائی گئی مٹی کو اکٹھا کرنا اور اس کے اجزا کو باہم مخلوط کرنا تھا۔پھر اس کے بعد شکل کی خلقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
فَجَبَلَ مِنْها صُورَةً ذاتَ اَحْناءوَ وُصُول وَ اَعْضاء وَ فُصُول[44]
اس سے ایک ایسی صورت بنائی ،جس میں موڑ ہیں ،مختلف جوڑ ہیں اور اس کے مختلف حصے ہیں ۔
یہاں شکل انسان سے مراد اس کی صورت نہیں ہے یعنی جس کو ہم چہرے سے تعبیر کرتے ہیں بلکہ یہاں شکل انسان سے مراد اس کا ڈھانچہ ہے جو جسم میں مختلف قسم کے خم رکھتا ہے مثلا جبڑوں کے جوڑ پاوں کا اوپری حصہ اور اسی طرح پسلیوں کے جوڑ وغیرہ جو انسان کو مختلف کاموں میں ضرورت کے وقت مدد دیتے ہیں اور وہ اپنے روز مرہ زندگی کے مراحل کو بغیر کی دوسرے کی مدد مشقت کے انجام دیتا ہے۔
اَجْمَدَها حَتَّى اسْتَمْسَکَتْ وَ اَصْلَدها حَتّى صَلْصَلَتْ[45]
اسے اتنا سکھایا کہ وہ خود تھم سکے اور اتنا سخت کیا کہ کھنکھنانے لگی۔
یعنی اس میں موجود گیلے پن کو خشک کیا کہ وہ مضبوط ڈھانچے کی طرح کھڑی ہو سکے اور جب اسے بجایا جائے تو اس میں آواز پیدا ہو ۔
لِوَقْت مَعْدُود وَ اَجَل مَعْلُوم[46]
پھر اسے وقت معلوم تک چھوڑ دیا ۔
یہ مدت کتنی تھی یہاں تو ذکر نہیں کیا گیا مگرایک روایت میں ذکر ہوا ہے :
امام باقر علیہ اسلام نے فرمایا:
فَبَقِىَ اَرْبَعینَ سَنَةً مُلْقىً تَمُرُّ بِهِ الْمَلائِکَةُ فَتَقُولُ لاَمْر ما خُلِقْتَ؟[47]
یہ عرصہ چالیس سال کا تھا اور اس عرصے میں فرشتے حضرت آدم علیہ اسلام کے گرد چکر لگاتے ااور ایک سوال کرتے کہ تمہیں کیوں خلق کیا گیا ہے ؟
اس فاصلے کی وجہ جو محققین نے ذکر کی وہ یہ ہے :
۱۔ملائکہ کی آزمائش
۲۔تعلیم حضرت آدم علیہ اسلام مقصود تھی۔
ثُمَّ نَفَخَ فیها مِنْ رُوحِهِ فَمَثُلَتْ اِنْساناً ذا اَذْهان یجیلُها[48]
پھر اس میں روح پھونکی تو ایسے انسان کی طرح کھڑا ہو گیا جو قوائے ذہنی کو حرکت دینے والا ،فکری حرکات سے تصرف کرنے والا،اعضا و جوارح سے خدمت لینے والا ہے۔
روح پھونکنے کے بعد فورا ہی انسان کا کھڑے ہونے کی طرف اشارہ ہے جو کسی بھی کام کے لئے انسان کی جلد باز طبیعت کی طرف اشارہ ہے پھر یہ کہ قوائے عقل یعنی انسان اپنی زندگی میں جو بھی کام انجام دیتا ہے وہ عقل کے ذریعے انجام دیتا ہے یاد رہے کہ اول ذہن قوت کے معنی میں آیا ہے اور بعد میں عقلانی ارادے کی طرف اشارہ ہے یعنی مولا کائنات علیہ اسلام نے عقل کو ایک قوت الہی سے تعبیر کیا ہے اور اس کے ذریعے انسان جتنے بھی مختلف امور انجام دینے کی قوت رکھتا ہے اس تمام قوت کو ایک لطف الہی شمار کیا ہے ۔[49]
وَ فِکَر یتَصَرَّفُ بِها وجَوارِحَ یخْتَدِمُها وَ اَدَوات یقَلِّبُها وَ مَعْرِفَة یفْرُقُ بِها بَینَ الْحَقِّ وَ الْباطِلِوَ الاَذْواقِ وَ الْمَشامِّ وَ الاَلْوانِ وَ الاَجْناسِ وَ الاَشْباهِ الْمُؤتَلِفَةِ وَ الاَضْدادِ الْمُتَعادِیةِ، وَ الاَخْلاطِ المُتَباینَةِ مِنَ الحَرِّ وَ الْبَرْدِ وَ الْبَلَّةِ وَ الْجُمُود[50]
اور ایسی شناخت کا مالک ہے جس سے حق و باطل میں تمیز کرتا ہے اور رنگوں جنسوں میں فرق کرتا ہے ۔ خود رنگا رنگ کی مٹی اور ملتی جلتی ہوئی موافق چیزوں سے مخالف ضدوں اور متضاد خلطوں سے اس کا خمیر ہوا ہے۔یعنی گرمی، سردی، خشک و تری کا پیکر ہے۔
اشیا میں تصرف یعنی انسان اپنے مختلف امور کو دنیا کی چیزوں کے ذریعے انجام دیتا ہے یہاں ہر چیز میں اور ہر طرح کا تصرف ذکر کیا گیا ہے جو بھی انسان اپنی ضرورت کی بنا پہ کرتا ہے اور اجسام کی قسموں میں بھی عقل کے ذریعے فرق کرتا ہے مگر فلاسفہ اسلامی یہا ں ذکر کرتے ہیں کہ فرق کرنے کی طاقت ہر انسان میں متفاوت ہے کسی کی یہ طاقت و قوت بہت زیادہ ہے اور بعض میں قوت ضعیف ہےاور ایک اور نقطہ جو بہت عجیب ہے وہ یہ ہے کہ جس قدر انسان کی یہ قوت مضبوط ہوتی جاتی ہے وہ خدا کی قدرتوں اور حکمتوں کو بہتر سمجھنے لگتا ہےاور اس سے نزدیک تر ہوتا جاتا ہے ۔
یہاں جو اعضا و جوارح کی مدد کی طرف اشارہ کیا تو یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اعضا وجوارح بذات خود کوئی مدد نہیں کرسکتے یہ ذہنی حکم کے محتاج ہیں جب ذہن کی طرف سے حکم ملے گا تو یہ کام انجام دیں گے یہ مکمل طور پر ذہن انسان کے تابع ہیں ۔پھر یہ بات بھی کہ ان کے ذریعے جو کائنات میں چیزیں خدا نے خلق کیں ہیں ان سے مدد لے سکتا ہے ۔
سب سے اہم بات جس کی طرف مولا ئے کائینات نے اشارہ کیا ہے وہ حق و باطل میں تمیز کا ہے کہ انسان اسی ایک عقل سے مدد لیتا ہے مگر یہاں ابھی رنگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یعنی شناخت وجودمادی مثلا سبزا زار میں مختلف جڑی بوٹیوں کی قسمیں ،حیوانات کی قسمیں اور اس کے علاوہ آواز میں فرق کرنا سب کچھ شامل ہے۔آخر میں انسان کی ہڈیوں اور دیگر اعصاب کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جن کی مدد سے انسان زندگی کے مختلف امور انجام دیتا ہے۔[51]
اس کے بعد انسان کی جبلی خصوصیات کی طرف اشارہ ہوا ہے آج کی طب اگرچے اس تقسیم کو نہیں مانتی مگر وہ اس تقسیم کو دوسری طرف لے کے آتی ہے۔مثلا وہ گرمی وسردی کو فشار خون یعنی ہائی و لو بلڈ پریشر کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور آفات جمود کو انسانی جسم میں پانی کی مقدار سے تعبیر کرتے ہیں۔لیکن مذکورہ تاویلا ت جن کا تذکرہ امام علیہ اسلام نے اپنے خطبے میں اشارہ کیا یہ سب اس خصوصیت کی نشاندہی کرتی ہے کہ خدا نے انسان کو مختلف مادوں ،جبلتوں ،خصوصیتوں اور صلاحیتوں کا امتزاج بنایا ہے اور یہ اختلافات انسانوں کے سوچنے کے طریقے اور طریقہ کار میں بہت سے اختلافات کا ماخذ ہے اور عام طور پر یہ مختلف معاشرتی عہدوں اور انسانی معاشروں کی مختلف ضروریات کے پیش نظر ہے اور ہر چیز منظم طور پر اپنی جگہ پر ہے یعنی انسان کو ایک مکمل و منظم سیٹ عطا کیا گیا ہے جس پر وہ اپنے امور کواپنی مرضی و خواہش کے مطابق انجام دے ۔
باب ہفتم:
اس باب میں امام علیہ اسلام نے نافرمانی ابلیس کا تذکرہ فرمایا ہے ۔
وَ أسْتَادَى اللهُ سُبْحانَهُ الْمَلائِکَةَ وَدیعَتَهُ لَدَیهِم وَعَهْدَ وَ صِیتِهِ اِلَیهِمْ فِى الاِذْعانِ بِالسُّجُودِ لَهُ وَ الْخُنُوع لِتَکْرِمَتِهِ فَقالَ سُبْحانَهُ اُسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا اِلا اِبْلیسَ[52]
پھر اللہ نے فرشتوں سے چاہا کہ وہ اس کی سونپی ہوئی ودیعت ادا کریں اور اس کے پیمان و وصیت کو پوراکریں جو سجدہ آدم علیہ اسلام کے حکم کو تسلیم کرنے اور اس کی بزرگی کے سامنے تواضع و فروتنی کے لئے تھا اس لئے اللہ نے فرمایا آدم کو سجدہ کرو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا ۔
اس تعبیر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالی نے فرشتوں سے عہد وپیمان لیا تھا کہ جب آدم علیہ اسلام کی خلقت مکمل ہو جائے تو تم اسے سجدہ کرو گے اور یہ وہی نقطہ ہے کہ قران کی سورہ ص میں بھی اس کا ذکر آیا ہے بعض نہج البلاغہ کے شارحین کہتے ہیں کہ اس حکم کے بغیر اگر خدا وند متعال حضرت آدم علیہ اسلام کو خلق کرتے اور بعد میں بلا کسی تعہد کے فرشتوں کو حکم دیتے تو یہ دستور شاید فرشتوں کے لئے باعث تعجب ہوتا اور وہ عطاعت خد ا میں تھوڑے سست ہو جاتے اس لئے خدا وند متعال نے حکمت عملی سے پہلے تعہد لیا اور اس کے بعد سجدے کا حکم دیا ۔اس کے بعد ابلیس کی مخالفت کا ذکر کرتے ہو ئے فرمایا:
اِعْتَرَتْهُ الْحَمیةُ وَ غَلَبَتْ عَلَیهِ الشِّقْوَةُ وَ تَعَزَّزَ بِخِلْقَةِ النّارِ وَاسْتَوهَنَ خَلْقَ الصَّلْصالِ فَاَعْطاهُ اللهُ النَّظِرَةَ اسْتِحْقاقاً لِلسُّخْطَةِ وَ اسْتِتْماماً لِلْبَلِیةِ وَ اِنْجازاً لِلْعِدَة فَقال اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرینَ اِلى یوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوم[53]
اسے عصبیت نے گھیر لیا بد بختی اس پر چھا گئی آ گ سے پیدا ہونے کی وجہ سے اپنے کو بزرگ و برتر سمجھا اور کھنکھناتی ہوئی مٹی کی مخلوق کو ذلیل جانا اللہ نے اسے مہلت دی تا کہ وہ پوری طرح غضب کا مستحق ہو جائے اور بنی آدم کی آزمائش پایہ تکمیل تک پہنچے اور وعدہ پورا ہو جائے ۔چنانچہ اللہ نے اس سے کہا کہ تجھے وقت معین کے دن تک مہلت دی۔[54]
در اصل یہ نظریہ کی آلودگی ہے اور ہوا ئے نفس کی تابع ہونے کی بات ہے اور دوسری چیز غرور و تکبر ہے اور اندرونی آلودگی ہے کہ فکر پر غلبہ حاصل کر لیتی ہے اور یہ ہی سبب بنتا ہے کہ واقعیت کو نہیں دیتا اور آگ کو مٹی سے برتر سمجھنا ہے حالانکہ مٹی کے بہت سے فوائد ہیں سب کو نظر انداز کر دیا اور اصل بات یہ ہے کہ حکمت خدا وندی پر اپنے علم و حکمت کو برتر سمجھنا اس طرح کی داوری حجاب کا سبب بنتی ہے یہ چیز تعجب آور نہیں ہے کیونکہ کبھی کبھی انسان اپنی خود خواہی میں بہت ساری چیزوں کو نظر اندازکر دیتا ہے اور اسی بات کی بنا پر بڑی بڑی خطا کا موجب بنتا ہے ۔اس شقاوت کی وجہ اندرونی موانع ہیں اور صفات رذیلہ ہیں کہ جو شیطان کے اندر موجود تھیں ۔کیونکہ یہ توفیقات پہلے کئے گئے اعمال کی بنا پر ہوتیں ہیں شقاوت ذاتی و غیر اختیاری ہوتی ہے کیونکہ شقاوت نقطہ مقابل سعادت ہے اور سعادت بھی انسان کے انجام دئے گئے نیک اعمال کی بنا پر ملتی ہے اور شیطان کی بھی یہ شقاوت قلبی ہی تھی بہر حال وہ خاموش ہو گیا اور خدا کی بارگاہ سے نکل گیا مگر یہ لعنت الٰہی بھی اس کے لئے باعث ہدایت نہ بنی اور بلکل اسی طرح جس طرح متعصب لوگ ہوتے ہیں ان کی سیرت کی طرح اس نے بھی عمل کیا اور ایک اور کام جو بلکل ہی غیر منطقی تھا کہ وہ یہ کہ اس نے بنی آدم کو اپنا دشمن شمار کرتے ہوئے ان کی گمراہی کے لیے کمر بستہ ہو گیا اور حسد و غصے کی بنا پر اپنے کام کو مذیدسخت کر دیا اور خدا سے قیامت تک کی مہلت مانگی جو اس کو ملی اب اس میں بھی مفسرین میں بحثیں ہیں:
۱۔ جب یہ دنیا ختم ہوگی تب تک مہلت ہے
۲۔جب امام زمانہ عجل فرج تشریف لائیں گے تو ابلیس کو قتل کریں گے
۳۔قیامت
مگر اس سے جو بھی تفسیر مراد لی جائے انسان کو بس یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ تمام غلط کام جو وہ انجام دیتا ہے شیطان کےگمراہ کرنے کی بنا پر نہیں ہے کیونکہ وہ ہمارے اعمال میں تصرف نہیں کر سکتا صرف وسوسہ ڈال سکتا ہے باقی انسان کے اپنے اوپر ہے کہ وہ کس کام کو انجام دیتا اور کس کو نہیں دوم : اگر شیطان دنیا سے ختم ہو بھی جاتا ہے تو بھی انسان کو گمراہ کرنے والامین عامل اس کا نفس اس کے اندر ہی موجود ہے ۔
باب ہشتم:
ترک اولیٰ:
وَ قُلْنا يا آدَمُ أسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّةَ وَ کُلا مِنْها رَغَداً حَيثُ شِئتُما وَ حَذَّرَهُ اِبْليسَ وَ عَداوَتَه
فَاغْتَرَّهُ عَدُوُّهُ نَفاسَةً عَلَيهِ بِدارِ الْمُقامِ وَ مُرافَقَةِ الاَبْرارِفَباعَ الْيقينَ بِشَکِّهِ وَ الْعَزيمَةَ بِوَهْنِه[55]
پھر اللہ نے آدم علیہ اسلام کو ایسے گھر میں ٹھہرایا جہاں ان کی زندگی کو خوشگوار رکھا انہیں شیطان کی عداوت سے بھی ہوشیار کر دیا لیکن ان کے دشمن نے ان کے جنت میں ٹھہرنے اور نیکو کاروں میں مل جل کر رہنے سے حسد کیا پس انہوں نے اپنا یقین شک سے بیچ دیااور آخر کار انہیں فریب دیا ۔
یہاں امام علیہ اسلام نے حضرت آدم علیہ اسلام کی جنت میں سکونت کی طرف اشارہ کیا ہے جہاں وہ آسائش بھری زندگی گزار رہے تھے اللہ پاک نے انہیں شیطان کی ان سے دشمنی کے بارے میں بھی خبردار کر دیا تھا یعنی اس ترتیب سے کہ سعادت و خوشبختی کی راہیں بھی ان کے لئے واضح تھیں جبکہ شقاوت و بد بختی کی راہیں بھی ان کے واضح تھیں۔حتی یہاں تک کہ درخت بھی معین کر دیا گیا کہ اس کے پاس نہ جانا اور باقی درختوں سے استفادہ کرنے کی اجازت بھی دی۔مگر وہ پھر شیطان کے جھانسے میں آگئے امام علیہ اسلام نے یہاں فرمایا کہ دشمن نے اس کو فریب دیا کیونکہ اس سے حسد کرتا تھا کہ وہ نیک لوگوں اور فرشتوں کا ہمنشین کیوں ہے؟اصولا شیطان کا کام یہ تھا کہ وہ خود کو سعادت تک پہنچانے کی کوشش کرتا مگر اس نے ہمیشہ یہ چاہا کہ خد اکی نعمتیں دوسروں سے چھن جانے کا باعث بنے پس حضرت آدم علیہ اسلام نے اپنا یقین شک سے بدل دیا اور اس کے جھانسے میں آگئے اور ترک اولٰی کے مرتکب ہوئے ۔ اس میں یہ سوال آتا ہے کہ کیا حضرت آدم علیہ اسلام نے خدا سے زیادہ شیطان پہ بھروسہ کیا نہیں ایسا نہیں ہے بس یہ بات بھول گئے تھے کہ خدا نے فرمایا تھا کہ یہ تمہارا کھلا دشمن ہے اسی لئے اس کی باتوں میں آگئےاور اپنے قوی ارادے میں کمزور و سست ہو گئے یہ تمام بنی آدم کے لئے ایک درس ہے کہ ہر وہ چیز جو تمہارے لئے مبہم ہو اس کے بارے میں بھی احتیاط کادامن ہاتھ سے نہ جانے دوکہ جس معاملے میں علم نہیں وہاں مت کودوکیونکہ شیاطین ہر بار اپنا جال بہت خوبصورت کر کے دکھاتے ہیں مگر اس میں ہمیشہ انسانیت کا نقصان ہوتا ہے ۔یہ پوری انسانیت کے لئے بہت بڑا درس ہے۔
وَ اسْتَبْدَلَ بِالْجَذَلِ وَجَلا وَ بِالاِغْتِرارِ نَدَماً ثُمَّ بَسَطَ اللهُ سُبْحانَهُ لَهُ فى تُوْبَتِهِ وَلَقّاهُ کَلِمَةَ رَحْمَتِهِ وَ وَعَدَهُ الْمَرَدَّ اِلى جَنَّتِه وَ اَهْبَطَهُ اِلى دارِ البَليةِ وَ تَناسُلِ الذُّرِّيةِ[56]
فریب خوردگی کی وجہ سے ندامت اٹھائی پھر اللہ نے ان کے لئے توبہ کی گنجائش رکھی انہیں رحمت کے کلمے سکھائے،جنت میں دوبارہ پہنانے کا ان سے وعدہ کیا اور انہیں دار ابتلا و محل افزائش نسل میں اتار دیا۔
یہاں تک کہ حضرت آدم علیہ اسلام اپنی غلطی کی طرف متوجہ ہو گئے اور اپنے کئے پہ بہت نادم ہوئے تو اللہ نے ان کو معاف کرنے کی گنجائش رکھی اور ان کو ایسے الفاظ سکھائے کہ وہ توبہ کر سکیں اور ان کی توبہ قبول ہو گئی خدا وند متعال نے دوبارہ جنت میں پہنچانے کا ان سے عہد بھی کیا اور ان کو اس دنیا میں اتار دیا تا کہ وہ افزائش نسل کے ذریعے اس دنیا کو انسانوں سے بھر دیں۔[57]
یہاں بھی ایک درس ہے پوری انسانیت کے لئے کہ جو بھی خد اکی نافرمانی کرے گا وہ شرمندہ بھی ہوگا اور عزت کے مقام میں اس کے لئے جگہ بھی نہیں ہوگی ۔ مختلف روایات میں جن مشکلات کا حضرت آدم علیہ اسلام کے لئے ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ظاہر کرتیں ہیں کہ یہ دنیا تمام انسانوں کے لئے امتحان گاہ ہے اور ایک ایسا راستہ ہے جس پہ چل کہ ہم خود کو عزت یا ذلت کے مقام میں داخل کر سکتے ہیں۔
باب نہم:
بعثت پیامبر :
اس حصے میں امام علیہ اسلام نے فلسفہ بعثت پیامبر کو واضح کیا ہے اور ان کی دعوت کے اہم نکات بھی ذکر کئے ہیں اور ان کی تعلیمات کو روشن واضح تعلیمات قرار دیتے ہوئے مشکلات کے مقابلے میں ان کی استقامت کو بھی بیان کیا ہے ۔
وَ اصْطَفى سُبْحانَهُ مِنْ وَلَدِهِ اَنْبياءَ اَخَذَ عَلى الوَحْىِ ميثاقَهُمْ وَعَلى تَبْليغِ الرِّسالَةِ اَمانَتَهُم لَمّا بَدَّلَ اَکْثَرُ خَلْقِهِ عَهْدَاللهِ اِلَيْهِمْ فَجَهِلُوا حَقَّهُ وَ اتَّخَذُوا الاَنْداد مَعَهُ وَاجْتالَتْهُم الشَّياطينُ عَنْ مَعْرِفَتِهِ وَ اقْتَطَعَتْهُمْ عَنْ عِبادَتِه فَبَعَثَ فيهِمْ رُسُلَهُ وَ واتَرَ اَلَيْهِم! اَنْبيائَهُ لِيَستَادُوهُمْ ليَستَادُوهُمْ ميثاقَ فِطْرَتِهِ وِ يُذَکِّرُوهُمْ مَنْسِىَّ نِعْمَتِهِ وَ يَحْتَجُّوا عَلَيْهِمْ بِالتَّبْليغِ وَ يُثيرُوا لَهُمْ دَفائِنَ العُقُولِ[58]
اللہ سبحانہ نے ان کی اولاد سے انبیا چنے ان سے وحی پر تبلیغ رسالت کا عہد لیا ان کو امین بنایا جبکہ اکثر لوگوں نے اللہ کا عہد بدل دیا تھا چنانچہ وہ اس کے حق سے بے خبر ہوگئے اوروں کو اس کا شریک بنا ڈالا ،شیاطین نے اس کی معرفت سے انہیں رو گرداں اور اس کی عبادت سے الگ کر دیا اللہ نے ان میں رسول مبعوث فرمائے او ر لگاتار انبیا بھیجے تا کہ ان سے فطرت کے عہد پیمان پورے کرائیں اس کی بھولی ہوئی نعمتیں یاد دلائیں پیغام ربانی پہنچا کر حجت تمام کردیں عقل کے دفینوں کو ابھاریں اور ان کو قدرت کی نشانیاں دکھائیں ۔
تشریح :
اس ترتیب سے آغاز وحی ہوا اور یہ ایک بہت بڑی امانت تھی جس کوبہت خیال سے اور دقیق اندازمیں لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری خدا نے ان کو سونپی جوایک بہت بڑی ذمہ داری تھی پھر مولاکائنات نے بعثت کے اصلی ہدف کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہے جب لوگوں نے خدا کے عہد کو بدل دیا تھا خدا کی نعمتوں کو بھول گئے تھے اس کا حق نہیں پہچانتے تھےاور شیاطین نے ان کو اطاعت خدا سے بھٹکا کر معرفت خدا سے دور کر دیا تھا ۔
در حقیت یہاں جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ وہ لوگ خدا کی معرفت نہیں رکھتے تھے جس کی بنا پر شیاطن نے ان پر غلبہ حا صل کیا اور ان کو سیدھے راستے سے بھٹکا کر اطاعت خدا سے دور کردیا۔مگر یہاں جو ذکر کیا گیا ہے کہ عہدو پیمان الہی کیا ہے ؟بہت سے نہج البلاغہ کے شارحین نے اس سے مراد عالم زر لیا ہے مگر ہو سکتا ہے کہ پیمان فطری کی بات ہو کہ مولا نے بعد والے جملے میں ذکر کیا کہ خدا وند متعال نے انسان کو پاک فطرت پر پیدا کیا ہے[59] کہ اندرونی طور پر اس کی ذات خدا کی توحید سے آشنا ہے اور فطری طور پہ وہ نیکی کو پسند کرنے والا اور بدی سے نفرت کرنے والا ہے اگر یہ لطف و کرم ہمیشہ انسان یاد رکھے تو پیامبر کا کام کس قدر آسان ہو جائے اور انسان اس تبلیغ کے کام میں پیامبر کا مددگار ہو جائے مگر یہ انحراف و نافرمانی ہے کہ اس نے اس کام کو مشکل کر دیا اور اسی انحراف ہی کا نتیجہ ہے کہ انسان شرک ونافرمانی خدا کا مرتکب ہوا ہے ۔اسی ہلاکت سے انسان کو بچانے کے لئے خدا وند متعال نے انبیا کو مبعوث کیا ۔
دوسری وجہ جو امام علیہ اسلام نے بعثت پیامبر کی ذکر کی وہ الہٰی نعمتوں کو یاد دلانا ہے کیونکہ ان ہی نعمتوں کو بھول جانا اس بات کا سبب ہے کہ انسان نافرمانی خدا کا مرتکب ہو تو انبیا ان نعمتوں کو یاد دلاتے ہیں اور خدا تک پہنچنے راستے دکھاتے ہیں کہ جن پہ چل کہ ان خود کو سعادت کے مقام تک پہنچا دے۔
تیسری یہ چیز کہ استدلات عقلی کے ذریعے انسان پر حجت تما م کر دیں
چوتھی یہ بات کہ عقل کے خزانے کو ان کے لئے آشکار کر دیں کیونکہ عقل خدا کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ اگر اس سے اپنے اصل مقام پر استفادہ کیا جائے تو بہت سی حکمتوں کو واضح کر دے گی اور علم آجانے کے بعد نافرمانی خدا ممکن ہی نہیں ہے اگر یہ حکمت واضح ہو جائے تو انسان عاقل کبھی بھی خود کو ہلاکت میں نہیں ڈالے گا۔
باب دہم:
مِنْ سَقْف فَوْقَهُمْ مَرْفُوع وَ مِهاد تَحْتَهُمْ مَوْضُوع وَ مَعايِشَ تُحْيِيهمْ و آجال تُفْنيهِمْ وَ اَوْصاب تُهْرِمُهُمْ وَ اَحْداث تَتابَعُ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُخْلِ اللهُ سُبْحانَهُ خَلْقَهُ مِنْ نَبيٍّ مُرْسَل اَوْ کِتاب مُنْزَل اَوْ حُجَّة لازِمَة اَوْ مَحَجَّة قائِمَة رُسُل لا تُقَصِّرُ بِهِمْ قِلَّةُ عَدَدِهِمْ وَلا کَثْرَةُ الْمُکَذَّبينَ لَهُمْ عَلى ذلِکَ نَسَلَتِ الْقُرُونُ وَ مَضَتِ الدُّهُورُ وَ سَلَفَتِ الآباءُ وَ خَلَفَتِ الاَبْناء[60]
یہ سروں پہ آسمان ان کے نیچے بچھا ہوا فرش زمیں ،زندہ رکھنے والا زندہ رکھنے والاسامان معیشت فنا کرنے والی اجلیں،بوڑھا کر دینے والی بیماریاں اور پے در پےآنے والے حادثے،اللہ سبحانہ نے اپنی مخلوق کو بغیر کسی پیغمبر کے بھیجے ،یا آسمانی کتاب ،یا روشن طریق کے کبھی یونہی نہیں ایسے رسول کہ جن کو تعداد کی کمی اور جھٹلانے والوں کی کثرت درماندہ و عاجز نہیں کرتی جس نے بعد میں آنے والے کا نام و نشان بتایا۔
تشریح:
اس کے بعد امام ؑ نے بعثت انبیا کےایک اور ہدف کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو نعمات الہی کو یاد دلانے والے ہیں اور اس دنیا کی آفرینش میں موجود آیات الہی کی نشاندہی کرنے والے ہیں مثلاً:
۱۔سات آسمانوں کی چھت جو انسانوں کے سروں پہ موجود ہے ۔
۲۔اور گہوارے کی طرح جھولتی زمیں جو زیر آسمان بچھائی گئی ہے۔
۳۔اس میں زندگی کی ضرورت کا سامان جو اس میں خلق کیا گیا ہے۔
۴۔یہ زندگی کہ انسانوں کے لئے فانی بنائی ۔
۵۔یہ مشکلات و سختی کہ جو انسان کو بوڑھا کر دے
۶۔یہ جو حادثے ان پہ در پہ حادثے آتے ہیں تا کہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہو جائے۔
در اصل یہ امور ترکیبی ایک اسرار ہے ،یہ آسمان ،زمین،وسائل اسباب زندگی ،اور مختلف قسم کے حادثات کہ انسان کو یاد خدا کی طرف متوجہ کرتے ہیں اسی طرح بہت سے حادثات انسان کے لئے باعث عبرت ہوتے ہیں اور ان کو خبردار کرنے کے لئے آتے ہیں اسی طرح پیغمبر لوگوں کو ایک مجموعہ تعلیم دیتا ہے کہ جو کوئی چاہے اپنی معرفت کے درجے کو بڑھائے آگاہی حاصل کرے اور خواب غفلت سے بیدار ہو جائے۔
دوسری بات جو اوپر بیان ہو ئی ہےکہ خدا نے کسی بھی جگہ کسی انسان کو بھی بغیر ہدایت و پیغمبراور واضح و روشن دلائل کے نہیں چھوڑا در اصل اس میں چار موضوعات کی طرف اشارہ ہوا ہے۔
۱۔ کہ پیامبر میں سے کوئی ایک شخص یا اس کا نائب لوگوں میں موجود رہتا ہے تا کہ لوگوں پر اس کے حکم کی حجت تمام کر دے ۔
۲۔ کتب آسمانی کہ لوگوں کے پاس ہمیشہ موجود رہتی ہے کہ پیامبر یا اس کا جانشین اس دنیا سے پردہ پا جائے یا غائب ہو جائے تو لوگوں کے پاس حکم خدا پر عمل کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی دلیل موجود رہے۔
۳۔امام معصوم و اوصیا انبیا ہیں کہ ہمیشہ ظاہر یا غائب صورت میں لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں بعض مفسرین نے یہاں احتمال دیا ہے کہ اس سے مراد عقل ہے مگر عقل اکیلی ہدایت انسان کے لئے کافی نہیں ہے اسے کسی مربی کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے یہاں مراد آئمہ ہی لئے جاسکتے ہیں ۔
۴۔ سنت آئمہ معصومین ؑ کی سنت سے تعبیر کیا گیا خواہ وہ ظاہر ہو یا پوشیدہ کہ انسان کو اس کے معنوی کمال تک لے جائے ۔
۵۔اس ترتیب سے خدا نے تمام ملتوں اور اور امتوں پہ حجت تمام کر دی ہے کہ ہدایت کے اسباب ان سے دور نہیں ہیں ۔
اس کے بعد آپؑ نے پیامبران الہی کی خصوصیات ذکر کیں ہیں ۔
۱۔اس قدر بہادر ہوتے ہیں کہ ایک ہوتے ہوئے ہزاروں پر بھاری ہوتے ہیں ۔
۲۔ آگ کے دریا میں کود جاتے ہیں اور خدا کے فرمان عمل کرنے اور نصرت الہی سے باز نہیں آتے ہیں
۳۔ بت خانوں کو توڑ دیتے ہیں اور بت پرستوں کے لئے بہت سخت ہوتے ہیں ۔
۴۔ محکم دلائل کے ذریعے ان کو شرمندہ کر دیتے ہیں اور اگر ان سے بھی بعض نہ آئیں تو ننگی تلواروں سے انہیں گھیر لیتے ہیں مگر ان کی بھووں میں خم تک نہیں آتا ہے ۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان میں استقامت ،جواں مردی ،اس طرح کی صفات تکیہ کی گئیں ہیں ۔
۵۔یہاں ایک اور خصو صیت ظاہر کی ہے کہ انبیا اپنے سے پہلے انبیا کی تصدیق کرنے والے اور بعد میں آنے والے کی خبر دینے والے ہوتے ہیں ۔
باب یازدہم:
اس میں امام ؑ نے چار چیزوں کی طرف توجہ دلائی ہے ۔
۱۔ مسئلہ بعثت پیامبر کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی چیدہ چیدہ خصوصیات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے ۔
۲۔ان کے موجودگی کے زمانے میں دنیا کےحالات ،عقائدی انحرافات کہ جو ان کے وجود بابرکت سے دور ہو گیا۔
۳۔رحلت پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
۴۔ میراث جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھوڑ کر گئے یعنی قران۔
اب ہم ایک ایک کی تشریح کرتے ہیں ۔
۱۔اِلى اَنْ بَعَثَ اللهُ سُبْحانَهُ مُحَمَّداً رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ لاِنْجازِ عِدَتِهِ وَ اِتْمامِ نُبُوَّتِهِ[61]
پھر اللہ تعالی نے ایفائے عہد کرتےہوئے اتمام نبوت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چند صفات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
تمام پیغمبروں سے یہ عہد لیا کہ اس پر ایمان لائیں اور اپنے پیروکاروں کو اس کے آنے کی بشارت دیں بے شک و ہ مشہور بابرکت و کرامت والے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والے ہیں۔
یہ تعبیر ہو سکتا ہے کہ ان کے ماں باپ کی کرامت کی طرف اشارہ ہویا ان برکات کی طرف کہ جو ان کی ولادت کے وقت دنیا میں وقوع پذیر ہوئیں ہیں مثلاً
۱۔بت خانوں میں بت گر گئے
۲۔فارس کا آتش کدہ بجھ گیا
۳۔جابر و ظالم بادشاہوں کے محل گر گئے
۴۔دریا بھی خشک ہو گیا اور یہ سب ایک جدید عصر اور شرک وکذب سے جنگ کی ابتدا تھی۔[62]
اس کے بعد مولا متقیان فرماتے ہیں کہ اس وقت دنیا شرک و کذب سے بھری ہوئی تھی اور لوگوں کےافکار و عقاید پراکندہ تھے بعض ایسے تھے جو خدا کو مخلوقات سے تشبیہ دیتے تھے بعض ایسے تھے جو خدا کے نام بتوں پر رکھتے تھےاور اس کے غیر کی طرف اشارہ کرتے تھے ۔
ملحد لحد کے مادہ سے ہے جو محد کے وزن پر ہے جس کے معنی گڑا کے ہیں جو کسی ایک طرف معین ہوتا ہے اسی بنا پر یہ قبر کے لئے بھی استفادہ کیا جا تا ہے پس پھر ہر کام میں کہ جو حد سے نکل کر افراط تفریط کا شکار ہو جائے اسے الحاد کہتے ہیں اور یہاں بھی جب اسلام کے قوانین کے مطابق جو عقائد افراط و تفریط کا شکار ہو جائیں اسے الحاد کہتے ہیں اسی بنا پر بت پرستی کو بھی الحاد کہا جاتا ہے اور یہ بات بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ بت پرست خدا کے ناموں پر بتوں کے نام رکھتے تھے جیسےا للات،منات ،عزہ وغیرہ یہ اللہ، العزیز، المنان سے مشتق ہیں، یا کہ خدا کی صفات کو مخلوق کی صفات کے قائل تھے اور اس کے ناموں مسمی کے طور پر تکرار کرتے تھے دونوں تفاسیر ممکن ہو سکتیں ہیں ۔[63]
اس کے بعد فرماتے ہیں کہ پس خدا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسط سے اس گمراہی و ضلالت سے نجات دی پھر فرماتے ہیں کہ خدا نے ان کو بر گزیدہ کیا اور ان کے لئے لقااللہ کو پسند کیا اور انہیں اس دنیا کے رنج و اعلم سے نجات دی ۔وہ بھی پہلے انیبا کے ساتھ جا ملے اور یاد رکھو وہ ہرگز اپنی امت کو بے سرپرست نہیں چھوڑ گئےوہ ان کے لئے واضح و روشن دلائل چھوڑ کر گئے ہیں ۔یہاں یہ بات واضح ہے کہ اس تعبیر سے امام علیہ اسلام وہی چیز ہے مراد لی کہ جو حدیث ثقلین میں ہے :
میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب خدا اور میری عترت کہ اگر اس تمسک کرتے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہوگی یہاں تک کہ حوض کوثر میں میرے پاس آ جائیں گے ۔[64]اس کے بعد امام نے قران کے متعلق گفتگو کی ہے اور عترت سے متعلق گفتگو نہیں کی مگر ایک دوسرے خطبے میں عَلَم قَائِم کی تعبیر ممکن ہے کہ اوصیا کی طرف اشارہ ہو ۔ کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کا سربراہ و روحانی باپ کی طرح ہوتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انیبا اپنی امت کے مستقبل کے بارے میں بلکل باپ کی طرح پریشان بھی ہوتے ہیں اسی دلیل کی بنا پر یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک پیغمبر اپنی امت کو بغیر کسی سرپرست کے چھوڑ کے جا ئے کہ ایک عمر کی زحمات و محنت برباد ہو جائے۔
باب دوازدھم:
بحث قران:
اس حصے میں امام علیہ اسلام نے قران کی عظمت و اہمیت کے بارے میں گفتگو کی ہے اس جگہ امام علیہ اسلام نے جامعیت قران کی بحث کی ہے اس گفتگو مقصد یہ ہے کہ اگر پیامبر خدا دنیا سے چلے بھی گئے ہیں تو تمہیں لاوارث نہیں چھوڑ گئے ایک منظم و مرتب کتاب کہ جو تمہاری مادی،معنوی،فردی،و اجتماعی اور تمام جحات زندگی کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔
کِتابَ رَبِّکُمْ فيکُمْ[65]
وہ تمہارے درمیان کتاب خدا چھوڑ کے گئے ہیں۔
اس میں امام علیہ اسلام نے چار نقاط کی طرف اشارہ کیا :
مُبَيِّناً حَلالَهُ وَ حَرامَهُ و فَرائِضَهُ وَ فَضائِلَهُ[66]
۱۔حلال و حرام الہی، واجبات مستحبات واضح کر دیا
اس جملے میں احکام پنجاگانہ کی طرف اشارہ ہے کہ قران میں حرام ،حلال، مکروہ،واجب ،مستحبات،مباہات سب واضح کر دیا گیا ہے۔
وَ ناسِخَهُ وَ مَنْسُوخَهُ[67]
۲۔ناسخ و منسوخ بھی بیان کیا گیا ہے ۔
ناسخ و منسوخ سے مراد وہ جدید احکام ہیں جو پہلے حکم کو منسوخ کر کے نافذ کئے جاتے ہیں ویسے تو جب احکام نافذکئے جاتے ہیں توظاہری طور پر مطلقا ہوتے ہیں مگر باطنی طور پر مقید و مخصوص وقت کے لئے ہوتے ہیں کہ جب ان کا وہ وقت ختم ہوتا ہے تو ساتھ ہی اس کی منسوخی حکم بھی آجاتا ہے اور اس کی جگہ نیا حکم بھی آ جاتا ہے مگر یہ ناسخ منسوخ کی بحث اب ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ بات صرف اس وقت ممکن ہے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ ہوں اور وحی کا دروازہ کھلا ہو مثال کے طور پر جیسےآیہ نجوا کا حکم کہ کوئی اگر پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کوئی سرگوشی میں بات کرنا چاہے تو پہلے صدقہ دے در اصل مسلمانوں کے لئے ایک آزمائش تھی مگر صرف ایک انسان امام علی علیہ اسلام کے علاوہ کسی نے اس حکم پہ عمل نہیں کیا اور بہت جلد یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا۔
رُخَصَهُ وَ عَزائِمَهُ[68]
۳۔مباح و ممنوع کو بھی واضح کر دیا ہے ۔
یہ تعبیر ممکن ہے کہ علم اصول و فقہ کے لیے جو تعبیرات استعمال ہوتی ہے کہ ایک واجب کو انجام دیتے ہوئے دوسرا کام حرام ہے مگر جیسے ہی واجب ختم ہو جائے تو وہ کام آپ کے لئے مباح ہو جائے گاجیسے مثال کے طور پہ احرام میں حاجی کے لئے شکار کرنا حرام ہے مگر جیسے ہی وہ احرام کھول دے تو شکار مباح ہو جاتا ہے اس یہ بات واضح ہے کہ احرام کھولنے کے بعد شکار واجب نہیں ہے بلکہ مباح ہے پہلےحکم کو ختم ہونے دیں تو دوسرے پہ عمل جائز ہو جاتا ہے اسی طرح یہ تعبیر اس حکم کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ جس میں فرمایا ہے کہ اگر کسی ظالم کے تابع ہے یا اسے جان کا خطرہ لاحق ہے تو اس کے لئے احکام میں استثنا پایا جاتا ہے کہ اگر وہ جان بچانے کے لئے حرام گوشت کھا لے تو اسے گناہ نہیں ہے ۔وہ احکام بھی واضح ہیں کہ جن میں بلکل استثنا نہیں پایا جاتا جیسے کسی بھی حال میں خدا کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا جا سکتا ان تمام احکام خاص و عام کی توضیح دی جا چکی ہےخاص وہ احکام جو تمام مسلمانوں کو شامل نہیں ہیں مثلا احکام حج کہ جو استطاعت رکھتا ہو اس پر واجب ہے اسی طرح عام حکم جو تمام مسلمانوں کو شامل ہو جیسے نماز پنجگانہ کہ ہر خاص وعام پہ ہر قسم کے حالات میں واجب ہے ۔
۴۔وَ خاصَّهُ وَ عامَّهُ[69]
خاص و عام کی توضیح دی جا چکی ہے
یہ تعبیر ان آیات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ آیت سے خاص شخصیت مراد لی گئی ہو جیسے آیہ ولایت کہ جس میں ’’جس نے نماز قائم کی اور رکوع میں زکوۃ دی ‘‘سے مراد صرف امام علی علیہ اسلام ہیں۔اسی طرح بعض آیات کا معنی عام ہوتا ہے
۵۔وَ عِبَرَهُ وَ اَمْثالهُ[70]
اور تمہیں پند و نصیحت کی جا چکی ہے۔
عبرعبرت کے مادہ سے ہے جو عبور سے لیا گیا ہے اسی بنا پر انسان جب حادثے کو دیکھتا ہے تو اور اس کے دوسرے مصداق پر بھی غور کرتا ہے تو اس کو عبرت کہاجاتا ہے [71]اور قران پاک ایسے واقعات سے بھرا پڑا ہے جو انسانیت کے لئے سبق آموز ہیں مثلا تواریخ انبیا میں بہت سے ایسے واقعات ذکر ہیں جو سبق آموز ہیں اور انسان عاقل کے لئے ایسے واقعات باعث عبرت ہیں۔اور اسی طرح بہت سی مثالیں ایسی ہیں کہ جو انسان کے لئے نمونہ عمل ہیں جیسے عصمت کی حفٖاظت میں حضرت یوسف علیہ اسلام کا کردا روغیرہ۔
۶۔وَ مُرْسَلَهُ وَ مَحْدُودَهُ[72]
اور مطلق و مقید کو واضح کر دیا گیا ہے۔
مطلق وہ احکام ہیں جو بغیر کسی قید کے ذکر ہوتے ہیں ۔ جس طرح سے یہ حکم ہے کہ اللہ نے بیع کو حلال کر دیا ہے اور اسی طرح سے مقید اس حکم کو کہتے ہیں کہ جس میں کسی قسم کی کوئی قید ذکر ہوئی ہو جیسے یہ حکم کہ تجارت تمہاری مرضی پہ منحصر ہے ۔[73]
یہ بات واضح ہے کہ مطلق حکم کو قید کے ذریعے مقید کیا جاتا ہے اس کے علاوہ مطلق سے مراد ایساحکم ہے کہ جو بغیر کسی قید و شرط کے آیا ہو جیسے تجارت میں دونوں فریقین کی رضائیت ضروری ہے اور مقید وہ حکم کہ جو قید و شرط سے ساتھ آیا ہو جیسے کفارہ قسم کہ ایک غلام کو آزاد کر دیں ۔
۷۔وَ مُحْکَمَهُ وَ مُتَشابِهَهُ[74]
محکم و متشبہات کو واضح بھی واضح کر دیا ہے ۔
محکم ایسی آیا ت ہیں کہ وہ جس بھی حکم پر دلالت کرتیں ہیں ان کا مصداق و حکم واضح و روشن ہوتا ہے کسی قسم کا ابہام ان میں نہیں ہوتا جیسے اللہ ایک ہے یہ محکم آیت ہے اس کے مصداق و مفہوم میں شک نہیں ہے اور متشبہات میں وہ آیات آتیں ہیں جن کا مفہوم واضح نہیں ہوتا ان کی تفسیر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دوسری آیات سے مدد لینی پڑتی ہے تا کہ ان کے اصلی مفہوم کو واضح کیا جاسکے ۔ جیسے پروردگار کی آنکھیں تمہیں دیکھ رہیں ہیں ۔اب اس کامطلب دوسری آیات سے کہ جن میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ خدا جسمانیت سے پاک و منزہ ہے ۔ان آیات کی مدد سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نظروں سے جسمانی نطریں مراد نہیں ہیں
۸۔مُفَسِّراً مُجْمَلَهُ وَ مُبَيِّناً غَوامِضَهُ[75]
مجملات کو بھی واضح بیان کیا گیا ہے ۔
مجمل وہ آیات ہیں جن میں ایک حکم دیا گیا مگر اس کی جزئیات کو بیان نہ کیا گیا ہو جیسے نماز کا حکم دیا گیا ہے مگر اس کی رکعاتاور ارکان نماز یہ سب قرآن میں بیان نہیں کیا گیا ۔
۹۔بَيْنَ مَأخُوذ ميثاقُ عِلْمِهِ وَ مُوَسَّع عَلَى الْعِبادِ فى جَهْلِهِ[76]
اس میں کچھ آیات ایسیں ہیں کہ اس کے بندوں کے لئے جاننا ضروری ہیں اور کچھ ایسیں آیات ہیں کہ اگر اس کے بندے اس سے جاہل بھی رہیں تو مضائقہ نہیں ۔
سب سے پہلے توحید و صفات خدا کے بارے میں آیات و روایات ہیں جن کے بارے میں ہر مسلمان کو ہر صورت آگاہ ہونا چاہیے،اسی طرح دوسرا مسئلہ معاد و جنت و دوزخ کا ہے کہ ان پہ اعتقاد ہو نا ہر انسان کے لئے ضروری ہے جبکہ اس کی جزئیات کو جاننا واجب نہیں ہے لیکن اگر جان لیا جائے تو انسان کو اعمال بد سے بچانے کے لئے مدد کرے گا ۔خلاصہ یہی ہے کہ تما م احکام حرام و حلال ،واجبات و مستحبات ،مباح و مکروہات،ناسخ و منسوخ ہر بحث قران میں مطرح کر دی گئی ہے اور اس کی مزید وضاحت احادیث اور قول معصوم ،تقریر معصوم اور فعل معصوم علیہ اسلام سے ہو چکی ہے ۔
۱۰۔وَ بَيْنَ مَقْبُولِ فى اَدْناهُ، مُوَسَّع فى اَقْصاهُ [77]
کچھ اعمال ایسے ہیں کہ جن کا تھوڑا حصہ بھی مقبول ہے اور زیادہ سے زیادہ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
اس حصے میں انسانوں کے نامہ اعمال اور ان کے حساب کے بارے میں بات کی گئی ہے یعنی ہر انسان کے لئے واضح ہے کہ مرنے بعد اسے حساب دینا ہے حتی یہاں تک واضح کیا گیا ہے کہ سوالات کیا پوچھے جائیں گے ؟اس کے علاوہ اس حصے میں قران کو پڑھنے پہ تاکید کی گئی ہے کہ تھوڑا پڑھنا بہت ضروری ہے مگر زیادہ پڑھنا اس معاملے میں ہر انسان کی اپنی مرضی ہے وہ اپنے برنامے کے مطابق سیٹ کر سکتا ہے ۔اسی طرح بعض احکام ایسے ہیں کہ اس میں مقدار آپ کی مرضی ہے مگر بعض ایسے ہیں کہ ہر چیز معین کر کے بتا دی گئی ہے ۔یعنی ہمارے لئے قران کے ذریعے آئمہ معصومین علیہ اسلام کے طریقے کے مطابق سب کچھ واضح کر دیا گیا ہے ۔
باب سیزدہم:
عظمت حج:
یہ بات معلوم نہیں ہے کہ یہاں عظمت قران کے بعد فورا ً حضرت علی علیہ اسلام نے عظمت حج کیوں بیان کیا تھا ؟لیکن اس میں کچھ احکام بیان کیے ہیں مگر سید رضی کے مطابق انہوں نے مختلف جگہوں پہ دیے گئے خطبات میں سے امام علیہ اسلام کا فصاحت و بلاغت کا شہکار کلام ذکر کیا ہے ۔کچھ احکام چونکہ بیان کئے گئے ہیں اسی کے ضمن میں حج کے احکام بھی بیان کئے گئے ہیں۔حج کے احکام میں بہت سے مختلف فردی،اجتماعی،تربیتی،،اخلاقی اور سیاسی احکام موجود ہیں ۔
ابتدا میں امام علیہ اسلام نے بہت خوبصورت تعبیرات سے اس فریضہ حج کو انجام دینے کے لئے لوگوں کو تشویق دلائی ہے پھر توصیف خانہ کعبہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
۱۔وَ فَرَضَ عَلَيْکُمْ حَجَّ بَيْتِهِ الْحَرامِ الَّذى جَعَلَهُ قِبْلَةً لِلاَناميَرِدُونَهُ وُرُودَ الاَنْعامِ وَ يَاْلَهُونَ اِلَيْهِ وَلُوهَ الْحَمام وَ جَعَلَهُ سُبْحانَهُ عَلامَةً لِتَواضُعِهِمْ لِعَظَمَتِهِ وَ اِذْعانِهِمْ لِعِزَّتِهِ وَ اخْتارَ مِنْ خَلْقِهِ سُمّاعاً اَجابُوا اِلَيْهِ دَعْوَتَهُ وَ صَدَّقوا کَلِمَتَهُ يُحْرِزُونَ الاَرْباحَ فى مَتْجَرِ عِبادَتِهِ وَ يَتَبادَرُون عِنْدَهُ مَوْعِدَ مَغْفِرَتِهِ[78]
خدا وند نے تم پر بیت اللہ کا حج واجب کیا ہے ۔ یہ وہ عظمت والا گھر ہے کہ خدا نے اسے تمہارا قبلہ بنایا ہے کہ ہر روز اس کی طرف دن میں پانچ بار منہ کر کے نماز ادا کرو کہ یہ مسلمانوں کی وحدت کی نشانی ہے اس کی ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ یہ عاشقان خدا کو اپنی طرف دعوت دیتا ہے اور اس طرح سے وہ حج کے معنی کو درک کرتے ہیں اور اسی بنا پر وہ خانہ خدا تک آنے کی سعی و کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنی قلب و روح کو گناہوں سے پاک کرلیں اور حج کے ذریعے اپنے بدن کو معنویت و روحانیت سے بہرہ مند کرتے ہیں اور اپنے قلوب کو شیطان کے شر سے،ہوائے نفس سے اور گناہوں کی وبا سے دور کرتے ہیں کسی بے قرار عاشق کی طرح خدا کو لبیک کہتے ہیں ،کسی مشتاق عاشق کی طرح صفا و مروہ کی سعی کرتے ہیں اور کسی بے قرار پروانے کی طرح کعبہ کے گرد چکر لگاتے ہیں۔
تشریح:
سب سے زیادہ جو قابل توجہ نقطہ ہے وہ یہ ہے کہ امام علیہ اسلام نے کہ سب سے پہلے جس نقطے کی طرف اشارہ کیا ہے وہ صدائے لبیک ہے لبیک یعنی خدا کی دعوت یعنی خدا اپنے خانہ کعبہ کے زوار کو مہمان کی طرح دعوت دیتا ہے اور اس کے عاشق اسی ذوق و شوق سے خانہ خدا کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور اس کے قرب و جوار میں محسوس کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حاجی اپنے قلب و روح میں معنویت محسوس کرتا ہے اس کے بعد امام علیہ اسلام نے فلسفہ حج کوبیان کیا ہے ۔
جَعَلَهُ سُبْحانَهُ و تَعالى لِلاِسْلامِ عَلَماً وَ لِلْعائِذينَ حَرَماً[79]
ان کی فروتنی و عاجزی اوراپنی عزت کے اعتراف کا نشان بنایا ہے ۔
اعمال و مناسک حج میں بہت متواضعانہ روش اختیار کی جاتی ہے کہ حق انجام دیا جائے اسلام میں کوئی عبادت حج سے بڑھ کر متواضح نہیں ہے جتنی یہ عبادت متواضح ہے کیونکہ اس میں حکم یہ ہے کہ تمام قیمتی لباس اتار دو ،تمام زیور اتار دیں اور ایک انسلےکپڑے پہ قناعت کر لیں اور پھر دیوانہ وار ایک مرکز خانہ کعبہ کے گردچکر لگانا اور صفا و مروہ کی سعی کرتا ہے اور سر منڈوا کے ہر جگہ فقط خدا کی رضا کے لئے منی،عرفات،،مشعر،ہر جگہ خدا کی رضا کے لئے سر منڈوا کے اپنا غرور و تکبر ختم ہو جاتا ہے۔
پھر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ حاجیوں کے لئے باعث افتخار ہے کہ خدا اس گروہ کو بخش دیتا ہے اس کے بعد امام علیہ اسلام فرماتے ہیں:
وَ اخْتارَ مِنْ خَلْقِهِ سُمّاعاً اَجابُوا اِلَيْهِ دَعْوَتَهُ وَ صَدَّقوا کَلِمَتَهُ[80]
اس نے اپنی مخلوق میں سے سننے والے لوگ چن لئے جنہوں نے اس کی آواز پر لبیک کہا اس کے کلام کی تصدیق وہ انبیا کی جگہوں پر ٹھہرے :
اسلامی روایات میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور حضرت اسماعیل علیہ اسلام کو مسولیت دی کہ خانہ خدا کی بنیاد رکھیں خدا نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ لوگوں کو حج کی دعوت دو انہوں نے فرمایا کہ میری آواز ہر جگہ نہیں جائے گی تو خدا نے فرمایا کہ تم آواز لگاو پہنچانا مجھ پہ چھوڑ دو حضرت ابراہیم علیہ اسلام بلند مقام پرکھڑے ہو گئے اوربلند آواز میں صدا لگائی :
کہ اے لوگو خدا کے گھر کا حج تم پر واجب کیا گیا ہے پس دعوت خدا پہ لبیک کہو تو روایات میں ملتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی آواز دنیا کے ہر کونے میں شرق و غرب میں حتی لوگوں کی صلبوں میں اور ماؤں کی رحموں میں لوگوں میں سے سب نے لبیک اللہم لبیک کہا ۔[81]
بعض روایات میں ملتا ہے کہ جنہوں نے لبیک کہا ان کی قسمت میں حج ہے اور جنہوں نے نہیں کہا ان کی قسمت میں حج بھی نہیں ہے ۔
اس کے بعد دوبارہ امام علیہ اسلام نے فلسفہ حج کی طرف واپس آتے ہوئے فرماتے ہیں :
وَ وَقَفُوا مَواقِفَ اَنْبيائِهِ وَ تَشَبَّهُوا بِمَلائِکَتِهِ الْمُطيفينَ بِعَرْشِهِ[82]
وہ انبیا کی جگہوں پہ ٹھہرے اور عرش پہ طواف کرنے والے فرشتوں سے شباہت اختیار کی
یہاں پہ انبیا سے تشبیہ دینے اس وجہ سے ہے کہ حضرت ابراہیم سے پہلے بھی بہت سے انبیا نے اس خانہ خدا کی زیارت کو آتے تھے اور فرشتوں سے اس وجہ سے ہے کہ خانہ خدا آسمانوں
میں ہے کہ فرشتے اس کے گرد طواف کرتے ہیں ۔
اسی اسرار حج کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:
يُحْرِزُونَ الاَرْباحَ فى مَتْجَرِ عِبادَتِهِ وَ يَتَبادَرُون عِنْدَهُ مَوْعِدَ مَغْفِرَتِهِ[83]
وہ اپنی عبادت تجارت میں منفعتوں کو سمیٹتے ہیں اور اس کی مغفرت کی طرف بڑھتے ہیں۔
یہاں امام علیہ اسلام نےایک لطیف نقطے سے سمجھایا ہے اور اس عبادت کو تجارت کا نام دیا ہے اس سے زیادہ فائدہ مند عبادت اور کیا ہو سکتی ہے کہ انسان چند اعمال انجام دے کے اپنے زندگی بھر کیے گئے گناہوں سے پاک ہو جائے اور پاک بھی اس طرح کہ گو یا ابھی پیدا ہوا ہو۔
اس کے بعد فرماتے ہیں:
جَعَلَهُ سُبْحانَهُ و تَعالى لِلاِسْلامِ عَلَماً وَ لِلْعائِذينَ حَرَماً[84]
اللہ تعالی نے اس گھر کو اسلام کے لئے پرچم یعنی علامت قرار دیا ہے اور پناہ چاہنے والوں کے لئے حرم بنایا ہے اس کا حج فرض کر دی ہے چنانچہ اللہ نے قران میں فرمایا کہ اللہ کا واجب الادا حق لوگوں پر یہ ہے کہ وہ خانہ کعبہ کا حج کریں جنہیں وہاں تک پہنچنے کی استطاعت ہو اور جس نے کفر کیا تو جان لے کہ اللہ سارے جہان سے بے نیاز ہے۔
خانہ کعبہ پرچم ہے یعنی اسلام کی پہچان ہے کہ تمام مسلمان اس کے گرد جمع ہوتے ہیں اور اپنے لئے استقلال عزت و عظمت اسی کے گرد چکر لگا کے ڈھونڈتے ہیں اور ہر سال تمام دنیا سے مسلمان یہاں جمع ہوتے ہیں اور ایک نئی انرجی سے اس کے گرد دیوانہ وار چکر لگاتے ہیں اس کے بعد امام نے مناسک حج کے وجوب کی طرف اشارہ کیا ہے ہر اس انسان پر جو وہاں جانے اور مناسک کو پورے کرنے استطاعت رکھتا ہو اس پر حج واجب ہے۔اور اگر کوئی نہ مانے یا انکار کرے تو وہ یہ جان لے کہ خدا وند متعال تمام دنیا سے بے نیاز ہے ۔[85]
نتیجہ:
اوپر بیان کئے گئے مطالب سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے اسلام ایک مکمل دین ہے اور ہمارے لئے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اگر اس کے اصولوں پہ عمل کیا جائے تو انسان نہ صرف اس عارضی زندگی میں بلکہ ابدی زندگی میں بھی سعادت و کمال مطلق کی راہیں باآسانی طے کر سکتا ہے۔خدا وند متعال سے دعا ہے کہ وہ ہمیں احکام اسلام کو تعلیمات اہل بیت علیہ اسلام کی روشنی میں سمجھنے اور ان پر عمل کرے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
منابع
القرآن
جعفری تبریزی ،محمد تقی شرح نہج البلاغہ،ناشر موسسہ اہل بیت،ایران،قم
کوفی اہوازی ،حسین بن سعد،الزہد،ناشر:المطبعہ العلمیہ،چاپ قم،سال چاپ،۱۴۰۶ق،ص۸۴،
ابن بابویہ،محمد بن علی،ناشر:جامعۃ المدرسین،چ قم،سال چ،۱۳۹۸
طبرسی،احمد بن علی،الااحتیاجعلی اھل الحجاجت ترجمہ شرح،ناشر مرتضوی،مکان چاپ،تھران
حافظ برسی،رجب بن محمد،مشارق انوار الیقین فی اسرار امیرالمومنین،ناشر بیروت،سال چ،۱۴۶۶ق
قطب الدین راوندی،سعیدی بن ھبۃاللہ،قصص الانبیا،ناشرمشہد،سال ۱۴۰۹ق
مجلسی،محمد بن باقر،ناشر:دار احیا التراث،سال چ،۱۴۰۳ق
الجزائری،نعمت اللہ بن عبداللہ،النور المبینفی قصص الانبیا والمرسلین،ناشر:مکتبہ آیۃ اللہ المرعشی النجفی،مکان چ،قم،سال چ۱۴۰۴ق
الکلینی،محمد بن یعقوب،اصول کافی،ج۲، موسسسہ العلمیہ ،بیروت
۔طبرسی،احمد بن باقر،الاحتیاج علی اھل الاجاج(للطبرسی)ناشر،نشر مرتضی،مکان چ،مشہد،چ۱۴۰۳ق
حلی ،حسن بن یوسف بن مطہر،ناشر:دار الکتاب الکبنانی،مکان چ،بیروت،چ۱۹۸۶م
بحرانی،ابن میثم،شرح نہج البلاغہ،ناشر:مشہد،بنیاد پژوہش ھائی اسلامی
شريف الرضي، محمد بن حسين، نهج البلاغة (للصبحي صالح) – قم، چاپ: اول، 1414 ق.
حلی ،حسن بن یوسف بن مطہر،نہج الحق و کشف الصدق،ناشر ،دارالکتاب البنانی،مکان چ،بیروت،سال ،۱۹۸۶م
ابن ابی جمھور،محمد بن زین الدین،عوالی اللائی العزیزۃ فی الاحادیث الدینیۃ،ناشر:دار السید الشہدا للنشر،مکان چ،قم ،سال چ،۱۴۰۵ق
ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،ناشر: موسسہ العلمیہ ،لبنان،بیروت
تمیمی آمدی ،عبدالواحد بن محمد،غررالحکم ددرالکلم،ناشر دار الکتاب الاسلامی،چ قم،سال چ۱۴۱۰
دیلمی،حسن بن ابی الحسن،الارشاد القلوب،ناشر:رضی،سال چ،۱۴۱۲ق
راغب اصفہانی،المفردات القرآن،ناشر موسسۃ الاالعلمیہ ،بیروت
محمد علی فاضل،نھج البراعہ،ناشر:موسسۃ الاالعلمیہ ،بیروت
صدرالدین شیرازی،محمد بن ابراہیم،شرح اصول کافی،موسسہ مطالعات تحقیقات فرہنگی،مکان چ،تہران،سال چ،۱۳۸۳
حسینی موسوی،محمد بن ابی طالب،تسلیۃ المجالس و زینۃ المجالس،ناشر:موسسۃ المعارف اسلامیہ،چ:ایران ،قم،سال چ:۱۴۱۸
رجب بن محمد ،مشارق الانوار امیرامومنین،ناشر: اعلمی،مکان چاپ:بیروت،سال چاپ ۱۴۶۶
قزوینی،ملا خلیل بن غازی،ناشر:دارالحدیث،قم ،ایران،سال چاپ:۱۴۲۹ق
قمی،علی بن ابراہیم،ناشر:دار الکتاب،مکان چاپ :قم،سال چاپ:۱۴۰۴
بحرانی،سید ہاشم بن سلمان،البرہان فی تفسیر القرآن۔ناشر:قم،مکتبہ بعثہ،سال چاپ:۱۳۷۴ ۔
کبیر مدنی شیرازی،سید علی خان بن احمد،ریاض السالکین فی شرح صحیفہ سید الساجدین،ناشر: دفتر انتشارات اسلامی،چ قم ایران،سال چ،۱۴۰۹
مغنیہ،محمد جواد،فی ظلال نہج البلاغہ،ناشر:دارالعلم ملایین،لبنان،بیروت۔
ابن شعبہ حرانی،حسن بن علی،تحفہ العقول،ناشر:جامعہ مدرسین،قم،سال چاپ ۱۴۰۴
ابن میثم ،شرح نہج البلاغہ،ناشر:بیروت، موسسۃ الاعلمیہ
جیلانی،رفیع الدین،محمد بن محسن،الذریعۃ الی حافظ الشریعہ،دار الحدیث، قم، سال چاپ ۱۴۲۹ق
سید جمال الدین،در محضر خورشید،ناشر:مرکز نشرھاجر
خوئی، میرزا حبیب اللہ، منھاج البراعہ فی شرح نہج البلاغہ، ناشر:مکتبہ اسلامیہ،تھران
مطہری، مرتضی، در سیری نہج البلاغہ، ایران، قم الھادی
قمی، مشہدی، محمد بن رضا محمد رضا، تفسیر کنز الدقائق و بحر الغرائب، وزارت فرھنگ و ارشاد،سازمانچاپ و انتشارات،تھران،سال چ،۱۳۷۸
طبرسی،احمد بن علی،الاحتجاج علی اھل الجاج،ناشر:نشر مرتضی،مکان،چ،مشہد،سال،۱۴۰۳
حافظ برسی،مشارق انوار الیقین فی اسرار امیرامومنین علیہ اسلام،ناشر:اعلمی،بیروت،سال چ،۱۴۶۶ش
فیض کاشانی،محمدمحسن بن شاہ مرتضی، تفسیرالصافی ،ناشر:مکتبہ الصدر،تھران،۱۴۱۵
العروسی الحویزی،عبد علی بن جمعہ،تفسیر نور الثقلین،ناشر:اسماعیلیان،قم،۱۴۱۵ق،ج۳،ص
طریحی،فخر الدین بن محمد،مجمع البحرین،ناشر: مرتضوی،تھران،۱۳۷۵ش
قمی عباس،سفینۃ البحار،ناشر اسوہ قم ،سال چ ۱۴۱۴ ق،چ اول
علامہ سجاد،شرح نہج البلاغہ،انتشارات :المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی ،قم
حسن بن علی،امام یازدہم،التفسیر منسوب بہ امام حسن العسکری،ناشر: مدرسہ المہدی،عجل الفرج،قم،۱۴۰۹ ق
محمد بن مکرم ابن منظور،لسان العرب،ناشر:موسسہ الاعلمیہ ،لبنان:بیروت
صفار ،محمد بن حسن ،بصائر الدراجات فی فضائل آل محمد علیہ اسلام ،ناشر:مکتبہ آیت اللہ مرعشی النجفی،تھران
دیلمی،حسن بن محمد،اعلام الدین فی صفات المیر المومنین،ناشر: موسسۃ آل البیت علیہم اسلام،مکان چاپ قم،سال چاپ ۱۴۰۸
ابو مخنف کوفی،لوط بن یحیئ،وقعۃ الطف،ناشر:جامعہ مدرسین ،مکان چ،قم،ایران،قم،سال چ،۱۴۱۷
مازندرانی،محمد صالح بن احمد،شرح الکافی،الاصول والروضۃ،مکتبہ اسلامیہ،مکان چاپ،۱۳۸۶
ابن باویہ،محمد بن علی،عیون اخبارالرضا علیہ اسلام،ناشر:تھران،نشر جھان،سال چ،۱۳۷۸
قطب الدین راوندی،سعید بن ھبۃ اللہ،قصص الانبیا علیہم اسلام،ناشر:مرکز پژوہش ھائی اسلامی،مکان چ،مشہد،سال چ ۱۴۰۹
معلوف لویس،المنجد،ناشر تھران ،بی تا
مجلسی،محمد باقربن محمد تقی،بحارالانوار،ناشر:دار احیاالتراث عربی،مکان چ،لبنان،بیروت،سال چ،۱۴۰۳
۔شہید باقر الصدر،علم الاصول،ناشر: المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی،قم، بحث،مطلق و مقید
ھلالی،سلیم بن قیس،کتاب سلیم بن قیس الھلالی،ناشر؛الھادی،ایران،قم،سال چ،۱۴۰۵
شیخ صدوق،ابن بابویہ ،الامالی صدوق،ناشر : کتابچی،تھران،سال چ،۱۳۷۶
علامہ طبری،تارخ طبری،ناشر: موسسۃ العلمیہ بیروت
۔جعفری تبریزی ،محمد تقی شرح نہج البلاغہ،ج۱،ص۶۹تا ۷۲ [1]
۔کوفی اہوازی ،حسین بن سعد،الزہد، ص۸۴،ابن بابویہ،محمد بن علی، ص۱۱۴،طبرسی،احمد بن علی،الااحتیاج علی اھل الحجاجت ترجمہ شرح،ناشر مرتضوی،مکان چاپ،تھران،ص۴،حافظ برسی،رجب بن محمد،مشارق انوار الیقین فی اسرار امیرالمومنین،ناشر بیروت،سال چ،۱۴۶۶ق،ص۱۷۳[2]
۔قطب الدین راوندی،سعیدی بن ھبۃاللہ،قصص الانبیا،ص۱۱۱،مجلسی،محمد بن باقر ،ص۳۵۱،الجزائری،نعمت اللہ بن عبداللہ،النور المبینفی قصص الانبیا والمرسلین،ص۳۰۵[3]
۔الکینی،محمد بن یعقوب،اصول کافی،ج۲، ص۹۸[4]
۔طبرسی،احمد بن باقر،الاحتیاج علی اھل الاجاج(للطبرسی) ج۱،ص۱۹۹،ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ ،ص۷۶،حلی ،حسن بن یوسف بن مطہر ،ص ۶۵، [5]
۔بحرانی،ابن میثم،شرح نہج البلاغہ، ج۱،ص۶۰[6]
۔[7] شريف الرضي، محمد بن حسين، نهج البلاغة (للصبحي صالح) ص ۳۹،حلی ،حسن بن یوسف بن مطہر،نہج الحق و کشف الصدق ،ص۶۵،ابن ابی جمھور،محمد بن زین الدین،عوالی اللائی العزیزۃ فی الاحادیث الدینیۃ، ج۴،ص۱۲۶،
۔ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ، ج۱،ص ۶۸[8]
۔تمیمی آمدی ،عبدالواحد بن محمد،غررالحکم ددرالکلم ،ص ۵۶۶،دیلمی،حسن بن ابی الحسن،الارشاد القلوب ،ص۱۲۴،[9]
۔نہج البلاغہ،سید رضی،ص ۳۹[10]
۔ایضاً[11]
،راغب اصفہانی،المفردات القرآن ،ج۱،ص۳۳۴[12]
۔محمد علی فاضل،نھج البراعہ،ج۱،ص۳۲۱،[13]
۔ایضاً[14]
۔صدرالدین شیرازی،محمد بن ابراہیم،شرح اصول کافی، ج ۴،ص۹۵[15]
یہ ایک فلسفی تعبیر ہے جو وجود خدا کے اثبات کے لئے استعمال کی جاتی ہے [16]
۔حسینی موسوی،محمد بن ابی طالب،تسلیۃ المجالس و زینۃ المجالس،ج۱،ص۳۱۸[17]
۔نہج البلاغہ،خطبہ ۱۔۳۳[18]
۔رجب بن محمد ،مشارق الانوار امیرامومنین، ص۶۵،قزوینی،ملا خلیل بن غازی،ج ۲،ص۳۸۳[19]
[20]یہ ایک فلسفی تعبیر جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک چیز کا پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کی علت (وجہ)خدا ہے ۔
ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،ج۱،ص۷۸[21]
قمی،علی بن ابراہیم،ناشر:دار الکتاب،مکان چاپ :قم،سال چاپ:۱۴۰۴،ص۲۶،بحرانی،سید ہاشم بن سلمان،البرہان فی تفسیر القرآن۔[22]
۔نہج البلاغہ خطبہ ۸۹[23]
۔کبیر مدنی شیرازی،سید علی خان بن احمد،ریاض السالکین فی شرح صحیفہ سید الساجدین، ج ۵ ص ۵۹۶[24]
[25]مغنیہ،محمد جواد،فی ظلال نہج البلاغہ،ج۱،ص۲۶۔[25]
۔ابن شعبہ حرانی،حسن بن علی،تحفہ العقول، ص۶۳[26]
۔ابن میثم ،شرح نہج البلاغہ ،ج۱ ،ص۱۲۷[27]
۔جیلانی،رفیع الدین،محمد بن محسن،الذریعۃ الی حافظ الشریعہ ،ص۴۰۲[28]
۔سید جمال الدین،در محضر خورشید، ص۱۳۴[29]
۔خوئی ،میرزا حبیب اللہ،منھاج البراعہ فی شرھ نہج البلاغہ ،ص۱۷۸[30]
۔مطہری،مرتضی،در سیری نہج البلاغہ،ص۶۳[31]
۔قمی،مشہدی،محمد بن رضا محمد رضا،تفسیر کنز الدقائق و بحر الغرائب،وزارت فرھنگ و ارشاد،سازمان ج۷،ص۳۵۴[32]
۔نہج البلاغہ خطبہ ۱،ص ۴۴[33]
ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،ج۱،ص۸۰[34]
سید رضی ،نہج البلاغہ،ص۴۰[35]
۔سورہ یس،۸۲[36]
۔طبرسی،احمد بن علی،الاحتجاج علی اھل الجاج،ص ۲۰۰[37]
ابن میثم،شرح نھج البلاغہ،ج۱،ص۹۰[38]
۔حافظ برسی،مشارق انوار الیقین فی اسرار امیرامومنین علیہ اسلام،ص۲۱۳[39]
۔ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،ج۱،ص ۹۳[40]
۔خوئی ،مرزا حیبیب اللہ،نہج البراعہ،ج۱،ص ۹۶[41]
۔فیض کاشانی،محمدمحسن بن شاہ مرتضی، تفسیرالصافی ،ج۳،ص۱۰۶[42]
۔العروسی الحویزی،عبد علی بن جمعہ،تفسیر نور الثقلین،ج۳،ص۱۲[43]
۔نہج البلاغہ ،خطبہ۱،۴۶[44]
۔نہج البلاغہ خطبہ ۱،ص۴۲[45]
۔طریحی،فخر الدین بن محمد،مجمع البحرین،ج۵،ص ۴۰۷[46]
۔ہاشمی خوئی،میرزا ھبیب اللہ،منھاج البراعہ ،ج۲،ص۴۴[47]
۔قمی عباس،سفینۃ البحار،ج۱،ص ۶۰[48]
۔علامہ سجاد،شرح نہج البلاغہ،ج۱،ص ۹۸[49]
العروسی الحویزی،عبد علی بن جمعہ ،تفسیر نو الثقلین،ج۳،ص۱۳[50]
۔ایضاً[51]
۔سید رضی،نہج البلاغہ ،خطبہ ۱،مترجم ،مفتی جعفر حسین،ص۴۱[52]
۔ایضاً[53]
۔خوئی ، حبیب اللہ ،نہج البراعہ،ج۱،۱۰۳[54]
۔حسن بن علی،امام یازدہم،التفسیر منسوب بہ امام حسن العسکری ،ص۶۶۱[55]
۔سید رضی ،نہج البلاغہ،خطبہ۱،ص ۴۱ [56]
۔ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،ج۱،ص ۱۰۴[57]
۔ایضاً[58]
۔ایضاً[59]
نہج البلاغہ خطبہ ۱[60]
،ایضاً[61]
۔خوئی، حبیب االلہ ،نہج البراعہ ،ج۱،ص ۱۱۰[62]
۔محمد بن مکرم ابن منظور،لسان العرب، ج۱۶،ص۶۷[63]
۔صفار ،محمد بن حسن ،بصائر الدراجات فی فضائل آل محمد علیہ اسلام ،ج۱،ص ۴۱۳[64]
۔ایضا[65]
دیلمی،حسن بن محمد،اعلام الدین فی صفات المیر المومنین،ص ۱۰۶۔[66]
۔ابو مخنف کوفی،لوط بن یحیئ،وقعۃ الطف،ص ۷ [67]
۔مازندرانی،محمد صالح بن احمد،شرح الکافی،الاصول والروضۃ،ج۲، ص۳۶[68]
۔ابن باویہ،محمد بن علی،عیون اخبارالرضا علیہ اسلام،ج۲،ص۱۶۶[69]
قطب الدین راوندی،سعید بن ھبۃ اللہ،قصص الانبیا علیہم اسلام،ص۱۷۰۔[70]
۔معلوف لویس،المنجد،ج۱،ص ۳۴۴[71]
مجلسی،محمد باقربن محمد تقی،بحارالانوارج۸۹،ص۳۳۔[72]
۔شہید باقر الصدر،علم الاصول،حلقہ اولی بحث،مطلق و مقید،ص۷۱ [73]
۔ھلالی،سلیم بن قیس،کتاب سلیم بن قیس الھلالی،ج۲،ص۸۴۶[74]
۔نہج البلاغہ،خطبہ ۱،ص۴۲[75]
۔دیلمی،حسن بن محمد،اعلام الدین فی صفات المومنین،ص ۱۰۶[76]
۔ایضاً[77]
۔شیخ صدوق،ابن بابویہ ،الامالی صدوق،النص،ص ۲۹۱[78]
نہج البلاغہ،خٰطبہ ۱ ،۴۳۔[79]
ایضاً[80]
۔علامہ طبری،تارخ طبری،ج۳،ص ۲۶۶ [81]
۔ایضاً[82]
۔ایضاً[83]
۔ایضاً[84]
۔مغنیہ،محمد جواد،فی ضلال نہج البلاغہ،ج۱،ص ۷۱[85]