خطبہ نمبر 10
نہج البلاغہ
خطبہ نمبر 10
ترجمہ:
شیطان نے اپنے گروہ کو جمع کر لیا ہے اور اپنے سوار و پیاد سمیٹ لیے ہیں۔ میرے ساتھ یقیناً میری بصیرت اپنے نا میں نے خود کبھی اپنے آپ کو دھوکا دیا اور نہ مجھے واقعی کبھی دھوکا ہوا، خدا کی قسم! میں ان کے لیے ایک ایسا حوض چھلکاؤں گا، جس کا پانی نکالنے والا میں ہوں، انھیں ہمیشہ کے لیے نکلنے یا نکل کر پھر واپس آنے کا کوئی امکان ہی نہ ہوگا۔
تلخیص:
یہ خطبہ بھی امام کے دیگر خطبوں کی مانند جنگ جمل کی طرف اشارہ کر دیا ہے، اور امام نے طلحہ اور زبیر کے لشکر کو شیطان کا لشکر کہہ کر معرفی کروایا ہے اور اس کے بعد جنگ جمل کے میدان میں اپنی خصوصیات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور اسی وقت امام نے اپنے آیندہ کے برنامہ کو اس طرح بیان کیا ہے کہ کم از کم الفاظ میں دشمن کے لیے ایک ایک جدی تہدید کو بیان کر دیا اور ایک صریح پیشگوئی میں اس جنگ کے نتیجہ کو بیان کر دیا. امام کے اس خطبہ سے یہ بات بھی واضح ہے کہ شیطان اپنے سیاہ کارناموں میں تنہا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ پورا لشکر ہے
1۔ اس خطبہ کا پہلا محور لشکر طلحہ و زبیر ہے جس کو لشکر شیطان سے تشبیہ دی گئی ہے اور کس طرح وہ لوگ لشکر شیطان نہ ہو کہ انہوں نے امام کے ساتھ کیے گئے پیمان کو توڑا اور اپنے مفاد کی خاطر امت اسلامی میں تفرقہ ڈال دیا اور ایک ایسی آگ جلائی کہ ایک عظیم گروہ اس میں جل کر راکھ ہو گیا اور بالآخر خود بھی اسی آگ کا ایندھن بن گئے۔ شیطان کے اس قسم کے امور کے بارے میں قرآن میں بھی ذکر ہوا ہے کہ جو اس خطبہ کی شروحات میں تفصیلاً ذکر ہے۔
2 ۔ اس خطبہ کا دوسرا محور امام کا اپنی خصوصیات کو بیان کرتا ہے، امام اپنی بصیرت کا ذکر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تا میں نے خود کبھی اپنے آپ کو دھوکا دیا نہ کسی اور نے کبھی دھوکا دیا، بعض شروحات لکھنے والے معتقد ہیں کہ آئمہ کی بصیرت دیگر لوگوں سے مختلف ہوتی ہیں جیسے کہ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
ہم ایسی آنکھیں رکھتے ہیں جو دیگر لوگوں کی آنکھوں سے مختلف ہیں، اور اور حق کو پہچاننے والیں ہیں اور شیطان کا ان میں کوئی عمل دخل نہیں (بحار الانوار ج 26 ص 66)
کیونکہ آئمہ معصومین علیہ السلام نے حق کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور ہرگز شیطان اتنی قدرت نہیں رکھتا کہ دوسرے لوگوں کی طرح ان کو گمراہ کر دے۔
امام کا یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ نہ حقیقت مجھ پر مشتبہ ہےاور نہ ہی کوئی دوسرا مجھ پر حقیقت کو مشتبہ کر سکا ، یا مجھے دھوکا دے سکا، اس جملہ سے واضح ہوتا ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنے نفس کے ہاتھوں دھوکا کھاتا ہے ۔ لہذا انسان پہلے اپنے نفس کو امان دے تاکہ دوسروں کا فریب و دھوکا اس پر اثر انداز نہ ہو۔
3 ۔ امام کے خطبہ کا تیسرا محور جنگ جمل کے اختتام کی طرف اشارہ ہے اور مخالفین کو شدید تنقید کی گئی ہے، امام نے اس جنگ کے میدان کو ایک حوض یا گڑھے سے تشبیہ دی ہے کہ جس کو پانی سے بھر دیا جائے کہ ہر گز اس سے نکلنے کی کوئی راہ باقی نہ بچے ،اشارہ اس طرف ہے کہ جنگ جمل کے مخالفین اس طرح پھنس جائیں کہ پھر کوئی فرار کی راہ نہ ملے اور اگر کوئی فرار کرے تو بھی دوبارہ اس کی جانب آنے کی ہمت نہ کرے۔
نکتہ قابل فکر یہ ہے کہ حضرت عائشہ کہ جو اس اہم جنگ کی سرغنہ تھی انہوں نے اس جنگ کے بعد کسی اور جنگ میں شرکت نہیں کی اور کبھی بھی اس کو بھول نہ سکی.
منابع:
1۔ منہاج البراعہ
2۔ شرح ابن میثم بحرانی
3۔ پیام امیرالمؤمنین(ناصر مکارم شیرازی )